بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو 10ارب۔۔اسفندیارولی کا معنی خیز تبصرہ،مشال خان کے بارے میں بڑا اعلان کردیا

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہاہے کہ پانامہ لیکس پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد وہ حکومت یا اپوزیشن کے بجائے سپریم کورٹ کیساتھ کھڑے ہیں اپنے فیصلے میں عدالت نے تمام اخلاقی وقانونی تقاضوں کا تعین کیاہے وزیراعظم کے استعفے کامطالبہ بلا جواز ہے جے آئی ٹی کے فیصلے کوبھی من وعن تسلیم کیاجائے گا۔وزیراعظم کے مطالبے کی حمایت نہیں کرینگے۔

بلورہاؤس پشاور میں پارٹی کے تھینک ٹینک کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے اسفندیارولی خان نے کہاکہ اے این پی نوازشریف ،زرداری اور عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ قانون کے ساتھ کھڑی ہے اخلاقی طور پر استعفے کا مطالبہ میری سمجھ سے بالاترہے کیاسپریم کورٹ کے فیصلے میں اخلاقیات اور آئین کے تقاضوں کا تعین نہیں کیاگیاہے کبھی بھی استعفے کی حمایت نہیں کرینگے ہاں اگر وزیراعظم خود استعفیٰ دیناچاہے تو اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کے فیصلے کوبھی من وعن تسلیم کیاجائے گاانہوں نے کہاکہ ان کی سیاسی جماعت سپریم کورٹ کی مشکور ہے کہ انہوں نے عوام کی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے مشال خان کیس میں ازخودنوٹس لیا سپریم کورٹ اب ملزموں کا تعین کرکے انہیں قانون کے دائرے میں موجود سخت سے سخت سزادے مجرموں میں اگرمیرابیٹابھی شامل ہے تو وہ بھی اتنی ہی سزا کا مستحق ہے اب اس بیانیہ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ عوام کا ایک جمگٹھااٹھے ،جج بنے ،گواہ بھی بننے اورخودسزابھی دے۔اسفندیارولی نے کہاکہ عمران خان نے پانامہ لیکس پر جن دس ارب روپے کا ذکر کیاہے وہ الف سے لکھاجاتاہے یاع سے ، عمران خان کو صرف ایک مخصوص بیان کے بجائے اپنی تمام معلومات قوم کے ساتھ شیئرکرنی چاہئے ،نوازشریف نے جس وقت گیلانی سے استعفے کا مطالبہ کیاتھا

اسفندیارولی خان نے کہاکہاس وقت سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آیاتھا اب سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیاجاناچاہیے اورجن سیاسی جماعتوں نے ماضی میں یہ کہاتھااب اس پر عمل درآمد بھی کرے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ احسان اللہ کسی ایک انسان کا نہیں پوری پختون قوم کا قاتل ہے اس نے ہزاروں لوگوں کے قتل کی ذمہ داری لی ہے اب اس کیلئے کیسی سزا تجویز کی جائے میری سمجھ سے بالاتر ہے لیکن قانون کے دائرے میں موجود انہیں سخت سے سخت سزادی جائے ورنہ اس کے لئے نئے ضابطوں کی تلاش کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…