جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

شیروں کو ٹیگ کر کے مانیٹر کرنے والی آئی پیڈ ایپ

datetime 19  مارچ‬‮  2015 |

(اسلام آ باد نیوز ڈیسک )ایک نئی آئی پیڈ ایپ صارفین کو کہہ رہی ہے کہ وہ شیروں کو ٹیگ کریں تاکہ ان جانوروں کو گننے اور ان کا پتہ رکھنے والے تحقیق کاروں کی مدد ہو سکے۔انٹرنیٹ سے لی گئی تصاویر اس ایپ میں ڈالی جاتی ہیں جو کہ ایک انٹرنیٹ گیم کی طرز پر بنائی گئی ہے۔کھلاڑی جب تصاویر کو ٹیگ کرتے ہیں تو انھیں پوائٹس ملتے ہیں، اس کے علاوہ کھلاڑی شیروں کے ارد گرد کے ماحول اور وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں کے متعلق بتا کر پوائنٹس حاصل کر سکتے ہیں۔اس ایپ کی مدد سے ٹیم چہرے کو پہچاننے والے سافٹ ویئر کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے تاکہ انفرادی طور پر جانوروں کو تلاش کرنے میں مدد ملے۔اس پروجیکٹ کو ’وائلڈ سینس‘ کہا جا رہا ہے اور یہ یونیورسٹی آف سرے میں کمپیوٹر کے ان سائنس دانوں نے تیار کیا ہے جو وائلڈ لائف کی حفاظت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اور وہ اسے عام لوگوں کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ان سائنس دانوں نے یہ ایپ انٹرنیٹ کی تصاویر کے خزانے کو آئی پیڈ کے صارفین کی مدد سے جانوروں کی حفاظت کے مفید ڈیٹا میں تبدیل کرنے کے لیے تشکیل دی ہے۔پی ایچ ڈی کے طالب علم آرون میسن نے بتایایہ انٹرنیٹ سے وہ تصاویر لے لیتی ہے جن میں لفظ شیر ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب ہے کہ شیروں کی سب تصاویر خواہ وہ اس نام کی بیس بال ٹیم کی ہوں، کھلونے ہوں، یا بلی یا کوئی اور پالتو جانور ہوں، وہ بھی اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔اس کے پیچھے جنگل کے اصلی شیروں کی بھی تصاویر، جن میں سے کئی سیاحوں نے فلکر جیسی سائٹوں پر اپ لوڈ کی ہیں، اور یہ جانوروں کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک ایسا ذریعہ ہے جس کو ابھی استعمال نہیں کیاگیا۔سو سب سے پہلے صارفین سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ اصلی شیر کی تصویر ہے۔ اس کے بعد وہ اس کے چہرے کی طرف اشارہ کریں گے اور تصویر کے متعلق مزید کچھ سادہ تفصیلات دیں گے۔میسن نے کہا کہ لوگ تصاویر سے انٹرایکٹ کر کے مزید معلومات بھی دے سکتے ہیں۔اس میں شامل ہو گا کہ آس پاس کا ماحول کیسا ہے، موسم کیسا ہے اور تصویر میں جانور کیا کر رہا ہے۔ مثال کے طور وہ بھاگ رہا ہے، سو رہا ہے یا کھا رہا ہے۔فوٹو سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اکٹھا کر کے اس سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں جیسا کہ اس کا محل وقوع، وغیرہ۔اس کے بعد ان نتائج کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے جو میسن اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ ایپ یا جو بھی یہ گیم کھیلے گا وہ جنگل میں جانوروں کی تعداد، تقسیم اور عمل کے متعلق مفید معلومات مہیا کرے گا۔یقیناً انٹرنیٹ پر وسائل کی کمی نہیں ہے اور یہ تصاویر سے بھرا پڑا ہے۔میسن کہتے ہیں کہ ’انٹرنیٹ پر اتنی زیادہ تصاویر ہیں اور ہم نے ابھی تک انھیں پراسیس نہیں کیا ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…