پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

مارکیٹ میں جعلی انڈے سپلائی کیے جانے کا انکشاف ، جعلی انڈے کیسے اورکس مواد سے تیار کیے جارہے ہیں ؟ حیران کن انکشافات

datetime 25  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کھانے پینے والی اشیاء میں ملاوٹ عام چیز ہے، اب تو لوگ ملاوٹ شدہ چیزیں کھانے پر حیرت کا اظہار نہیں کرتے، کیوں یہ معمول کی بات ہے، لیکن اب حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں چائنا سے امپورٹ شدہ نقلی انڈے بیچے جا رہے ہیں،

یہ انڈے بالکل اصلی انڈے محسوس ہوتے ہیں، ان کو کھانے والوں کو ذرا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نقلی انڈہ کھا رہے ہیں، لہٰذا اب انڈے کھانے میں احتیاط برتی جائے۔ چین سے اس نقلی انڈے کی سپلائی ساؤتھ ایشیا اور خصوصاً انڈیا میں جاری ہے، یہ نقلی انڈے کھانے کی وجہ سے انڈیا میں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، کیوں کہ انڈے میں استعمال ہونے والا سارا مواد کیمیکلز پر مشتمل ہے، انڈے کے چھلکے کو کیلشیم کاربونیٹ سے بنایا جاتا ہے، اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور سفیدی کو سوڈیم ایلگی نیٹ، جی لیٹنگ، کیلشیم کلورائیڈ، پانی اور فوڈ کلرز سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سارا مواد انسانی جسم کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو کھانے سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، نقلی انڈوں کی وڈیو دیکھی جائے تو یہ بالکل اصلی محسوس ہوتے ہیں، ان انڈوں کی زردی اور سفیدی اصل جیسی ہی لگتی ہے، اس تمام صورت حال کے بعد چوں کہ پاکستان میں انڈوں کا استعمال بہت زیادہ ہے، اگر نئی بیماریوں سے بچنا ہے تو پاکستانی عوام کو بھی ان نقلی انڈوں سے محتاط رہنا ہو گا۔نیچے دی گئی وڈیوز میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جعلی انڈے کیسے بن رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…