جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

’’مشال خان قتل ‘‘ قتل کے بعد قاتل مشال کی لاش کیساتھ کیا کرنا چاہتے تھے؟ایک اور ویڈیو منظر عام پر. ‎

datetime 19  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان قتل کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی، مشتعل ہجوم مشال کی لاش جلانے کیلئے ڈھونڈتا رہا، گاڑیوں کی بھی تلاشی لی،مسلح پولیس اہلکارخاموش تماشائی بنے کھڑے رہے ویڈیو کے مناظر نے مشتعل ہجوم کے عزائم بے نقاب کر دئیے۔تفصیلات کے مطابق عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان

کے سفاکانہ قتل کے بعدکی ایک ویڈیو گزشتہ روز منظر عام پر آئی تھی جس میں مشتعل ہجوم میں شامل افراد جنہوں نے مشال خان کو قتل کیا تھا قتل کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے اور ایک دوسرے کا نام صیغہ راز میں رکھنے کا حلف اٹھاتے نظر آرہے تھے جبکہ آج مشال خان کے قتل کے بعد ایک اور ویڈیو نے قاتلوں کے بھیانک عزائم کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشال خان کے قتل میں ملوث مشتعل ہجوم میں شامل افراد یونیورسٹی گیٹ پر کھڑے گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں اور مشال کی لاش کو تلاش کر رہے ہیں، نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشتعل ہجوم میں شامل ملزمان مشال خان کی لاش کو جلانے کیلئے تلاش کر رہے تھے جبکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران بھاری تعداد میں مسلح پولیس اہلکار بھی وہاں موجود ہیں جو خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں اور ملزمان کی خلاف قانون حرکات پر کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دے رہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران بھاری تعداد میں مسلح پولیس اہلکار بھی وہاں موجود ہیں جو خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں اور ملزمان کی خلاف قانون حرکات پر کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دے رہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…