جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے تاریخی ریفرنڈم ،عوام کے ردعمل نے دنیا کو حیران کرڈالا

datetime 16  اپریل‬‮  2017 |

انقرہ(آئی این پی)ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے تاریخی ریفرنڈم ،عوام کے ردعمل نے دنیا کو حیران کرڈالا، ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے ریفرنڈم میں ووٹنگ کا آغا زہوگیا، کامیابی کی صورت میں صدر اردوان کو بھرپوراختیارات حاصل ہو جائیں گے جب کہ وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ نائب صدر لے لے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطا بق ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنے کے لئے ریفرنڈم

کا آغاز ہو چکا ہے جس کے لئے ملک بھر میں ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم گئے ہیں، ریفرنڈم کے دوران پانچ کروڑ پچاس لاکھ افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ریفرنڈم کی حمایت میں انقرہ میں ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا سے خطاب میں طیب اردوان کا کہنا تھا کہ نئے سیاسی نظام سے ترکی میں استحکام پیدا ہو گا۔ صدارتی نظام سے طاقت ایک شخص کے ہاتھ میں جائے گی اس لئے عوام ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیں۔ریفرنڈم میں کامیابی کی صورت میں صدر اردوان کو بھرپوراختیارات حاصل ہو جائیں گے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ریفرنڈم کی حمایت میں انقرہ میں ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا سے خطاب میں طیب اردوان کا کہنا تھا کہ نئے سیاسی نظام سے ترکی میں استحکام پیدا ہو گا۔ صدارتی نظام سے طاقت ایک شخص کے ہاتھ میں جائے گی اس لئے عوام ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیں۔ریفرنڈم میں کامیابی کی صورت میں صدر اردوان کو بھرپوراختیارات حاصل ہو جائیں گے جب کہ وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ نائب صدر لے لے گا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھ کر 600 ہو جائیگی جب کہ رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے عمر کی حد 25 سال سے کم کر کے 18 سال ہو جائے گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…