منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آئس کریم کھانے کے شوقین افراد کیلئے بُری خبر،کیا کھاتے رہے؟فوڈ اتھارٹی کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی )پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسی تمام کمپنیوں کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے جو ویجیٹیبل فیٹ سے تیار کردہ فروزن ڈیزرٹس کو ڈیری آئس کریم کے طور پر فروخت کر رہی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے جاری کی گئی حالیہ وارننگ میں فروزن ڈیزرٹس کو ڈیری آئس کریم بناکر بیچنے والی کمپنیوں کومتنبہ کیا گیا ہے کہ ویجیٹیبل فیٹ سے بنی فروزن ڈیزرٹ کو ڈیری آئس کریم کے طور پر بیچنے کا

سلسلہ بند کیا جائے۔ ایک اشتہار کے ذریعے سب کو خبر دار کیا ہے کہ سستے ریٹس پر بکنے والی فروزن ڈیزرٹس کے گمراہ کن ٹی وی اور اخبار اشتہارات کے ساتھ ساتھ ڈبوں پر لگے لیبل درست کیے جائیں۔ 100 سے 120 روپے لیٹر بکنے والی فروزن ڈیزرٹس بچوں کی دماغی نشوونما کے لیے مضر ہیں۔ان فروزن ڈیزرٹس میں ڈیری فیٹ کی جگہ ویجیٹیبل فیٹ استعمال کیا جاتا ہے جو بچوں کی دماغی اور جسمانی نشوونما کوروکتا ہے۔اس حوالے سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ حالیہ جائزے کے مطابق 44فی صد بچوں میں نشوونماکی کمی کا شکار ہیں۔بچوں کی نشوونما کے لیے ڈیری فیٹ ضروری ہیں تاہم ویجیٹیبل فیٹ ان کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے پہلے مرحلے میں تمام فروزن ڈیزرٹس کے لیبل پر وارننگ “یہ آئس کریم نہیں فروزن ڈیزرٹ ہے اور ویجیٹیبل فیٹ سے بنی ہے”درج کروا رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول فروزن ڈیزرٹ بنانے والی کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ڈیری آئس کریم بھی متعارف کروائیں تاکہ بڑوں کے علاوہ بچے بھی ان کی مصنوعات سے کسی بھی خوف و خطرے کے بغیر لطف اندوز ہو سکیں۔نورالامین مینگل نے کا اس سلسلے میں مزید کہنا تھا کہ والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فروزن ڈیزرٹس کی بجائے ڈیری فیٹ سے بنی آئس کریم کھلائیں۔ دوسرے مرحلے میں ان تمام کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا جن کے لیبل گمراہ کن اور اشتہارات مبہم پائے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…