جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قبلہ اول کے گرد کھدائیوں سے مسجد اقصیٰ سمیت فلسطینی آبادی کو خطرات لاحق

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) فلسطینی حکام اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے قبلہ اول کے گرد کی گئی کھدائیوں کے نتیجے میں نہ صرف مسجد اقصیٰ کے وجود کو غیرمعمولی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ آس پاس کی فلسطینی آبادی کیلئے بھی یہ کھدائیاں کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہیں۔ قامی فلسطینی میڈیا کے مطابق مسجد اقصیٰ کے جنوبی قصبے سلوان میں مقامی فلسطینی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے گھروں کی دیواروں میں دراڑیں اور فرش

میں شگاف پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق فلسطینی ماہرین ارضیات نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست نے عرصہ دراز سے قبلہ اول کے گردو پیش میں غیرمعمولی مقدار میں کھدائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ کھدائیاں مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے ساتھ ساتھ حرم قدسی کے وجود کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کے مکانات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے نام نہاد آثار قدیمہ کی تلاش کی آڑ میں جاری کھدائیوں سے مسجد اقصیٰ کے پہلو میں کئی مقامات پر زمین میں شگاف پڑ گئے ہیں۔ ایسے میں صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے قبلہ اول کے گرد کھدائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے مذموم عمل پر مصر ہیں۔بیت المقدس میں ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے ایک رکن نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صہیونی ریاست سلوان اور وادی الحلوہ کے فلسطینی باشندوں کو وہاں سے نکلنے پرمجبورکرنے کیلئے زیرزمین کھدائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سطح زمین پر ’العاد‘ نامی یہودی ادارے فلسطینی اآباد کو وہاں سے نکالنے اور فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کے لیے سرگرم ہیں اور زیرمین صہیونی حکومت توسیع پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کے گردو پیش میں کی گئی کھدائیاں مقدس مقام کے آس پاس کی عمارتوں کیلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…