جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

’’کرپشن کی نئی تاریخ رقم ‘‘ پٹرول اور گیس کے نام پر پاکستانیوں کو کس طرح بیوقوف بنایا جا تا رہا ؟ سنسنی خیز انکشاف

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آن لائن) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے چند اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے 40 آئل و گیس کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اربوں روپے کے غبن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات 40 قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کی گئی 86 ارب روپے کی خرد برد کے حوالے سے کی جائے گی۔ایف آئی اے لاہور میں جمع کرائی گئی شکایت میں وزارت پٹرولیم کی 2013 سے 2015 تک کی آڈٹ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے

الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کمپنیوں نے 2012 سے 2015 کے دوران عوام سے پٹرولیم اور گیس سرچارج کی مد میں اربوں روپے اکھٹا کیے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ’9 کمپنیوں نے وزارت پٹرولیم کے افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کا تیل فروخت کیا جبکہ گذشتہ 6 سالوں کے دوران 34 تیل کے کنوؤں سے ’تجرباتی پیداوار‘ کے نام پر غبن کیا گیا‘۔قانون کے مطابق ’کسی بھی تیل کے کنویں سے تجرباتی پیداوار 2 سال تک کی جاسکتی ہے جس کے بعد نئے کنوؤں کو بند کیا جانا یا اس کی فروخت کو کمرشل قرار دیا جانا ضروری ہے‘۔ واضح رہے کہ وزارت پٹرولیم اب تک چند کمپنیوں سے 48 ارب روپے برآمد کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے جبکہ ان کمپنیوں سے مزید 86 ارب روپے برآمد کرنا باقی ہیں، مذکورہ کمپنیوں نے 2002 میں تیل اور گیس کی تلاش کے لائسنس حاصل کرنے کے باوجود 2012 تک اس کام میں ایک ڈالر کی سرمایہ کاری بھی نہیں کی۔علاوہ ازیں سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیاں بھی گیس سرچارج کی مد میں بھاری رقوم وصول کرکے منافع بنا چکی ہیں جنہیں دراصل حکومتی خزانے میں جمع ہونا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایف آئی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر ایجنسی نے قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ خردبرد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ان کا کہنا تھا ’اب تک ہم کچھ کمپنیوں سے 2.13 ارب روپے برآمد کرچکے ہیں جبکہ ایف آئی اے اس خرد برد میں وزارت پٹرولیم کے چند اعلیٰ افسران کی ملی بھگت کے حوالے سے تحقیق میں بھی مصروف ہے‘۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق ’کرپشن میں ملوث افسران کو طلب کیا جائے گا، جبکہ غبن میں ملوث کمپنیوں کے نمائندگان کو بھی

تفتیش کے لیے طلب کیا جارہا ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ کمپنیوں نے تیل حاصل کیا تاہم ایک مدت تک اس کا ٹیکس ادا نہیں کیا، اسی طرح تجرباتی مقصد کے لیے مختص حکومتی مشینری کے ذریعے نکالے گئے تیل کو بھی غیرقانونی طور پر فروخت کیا گیا اور حکومتی خزانے میں کچھ بھی جمع نہیں کروایا گیا۔ایف آئی اے عہدیدار کے مطابق ’کچھ صورتوں میں حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت 3 سال تک تیل نکالا جاسکتا ہے تاہم یہ سلسلہ 10 سال تک جاری رہا اور محکمے نے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…