منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

’’کرپشن کی نئی تاریخ رقم ‘‘ پٹرول اور گیس کے نام پر پاکستانیوں کو کس طرح بیوقوف بنایا جا تا رہا ؟ سنسنی خیز انکشاف

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آن لائن) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے چند اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے 40 آئل و گیس کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اربوں روپے کے غبن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات 40 قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کی گئی 86 ارب روپے کی خرد برد کے حوالے سے کی جائے گی۔ایف آئی اے لاہور میں جمع کرائی گئی شکایت میں وزارت پٹرولیم کی 2013 سے 2015 تک کی آڈٹ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے

الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کمپنیوں نے 2012 سے 2015 کے دوران عوام سے پٹرولیم اور گیس سرچارج کی مد میں اربوں روپے اکھٹا کیے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ’9 کمپنیوں نے وزارت پٹرولیم کے افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کا تیل فروخت کیا جبکہ گذشتہ 6 سالوں کے دوران 34 تیل کے کنوؤں سے ’تجرباتی پیداوار‘ کے نام پر غبن کیا گیا‘۔قانون کے مطابق ’کسی بھی تیل کے کنویں سے تجرباتی پیداوار 2 سال تک کی جاسکتی ہے جس کے بعد نئے کنوؤں کو بند کیا جانا یا اس کی فروخت کو کمرشل قرار دیا جانا ضروری ہے‘۔ واضح رہے کہ وزارت پٹرولیم اب تک چند کمپنیوں سے 48 ارب روپے برآمد کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے جبکہ ان کمپنیوں سے مزید 86 ارب روپے برآمد کرنا باقی ہیں، مذکورہ کمپنیوں نے 2002 میں تیل اور گیس کی تلاش کے لائسنس حاصل کرنے کے باوجود 2012 تک اس کام میں ایک ڈالر کی سرمایہ کاری بھی نہیں کی۔علاوہ ازیں سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیاں بھی گیس سرچارج کی مد میں بھاری رقوم وصول کرکے منافع بنا چکی ہیں جنہیں دراصل حکومتی خزانے میں جمع ہونا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایف آئی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر ایجنسی نے قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ خردبرد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ان کا کہنا تھا ’اب تک ہم کچھ کمپنیوں سے 2.13 ارب روپے برآمد کرچکے ہیں جبکہ ایف آئی اے اس خرد برد میں وزارت پٹرولیم کے چند اعلیٰ افسران کی ملی بھگت کے حوالے سے تحقیق میں بھی مصروف ہے‘۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق ’کرپشن میں ملوث افسران کو طلب کیا جائے گا، جبکہ غبن میں ملوث کمپنیوں کے نمائندگان کو بھی

تفتیش کے لیے طلب کیا جارہا ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ کمپنیوں نے تیل حاصل کیا تاہم ایک مدت تک اس کا ٹیکس ادا نہیں کیا، اسی طرح تجرباتی مقصد کے لیے مختص حکومتی مشینری کے ذریعے نکالے گئے تیل کو بھی غیرقانونی طور پر فروخت کیا گیا اور حکومتی خزانے میں کچھ بھی جمع نہیں کروایا گیا۔ایف آئی اے عہدیدار کے مطابق ’کچھ صورتوں میں حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت 3 سال تک تیل نکالا جاسکتا ہے تاہم یہ سلسلہ 10 سال تک جاری رہا اور محکمے نے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…