ایک دفعہ ایک شخص نے طنز مزاح میں بادشاہ سلامت پر ایک جملہ کسا جس سے ساری محفل میں لوگ تو ہنسنے لگے لیکن بادشاہ کو اسکی بات پر اپنی سبکی محسوس ہوئی اور اس کے دل میں انتقام کی آگ جلنے لگی چند دن بعد بادشاہ نے اس بذلہ گو کو کھانے پر دعوت دی ، بذلہ گو نے جیسے ہی کھانا کھایا اس کو محسوس ہونے لگا کہ بادشاہ نے کھانے میں زہر ملایا ہے اور اب آخری وقت قریب ہے فورا اٹھا ، بادشاہ نے پوچھا کہاں
چلے وہ بولا جہاں تم مجھے بھیجنا چاہتے ہو۔ بادشاہ بولا پس میرے مرے ہوئے باپ کو بھی سلام کہنا۔ بذلہ گو بولا معذرت میں جہنم میں نہیں جاؤں گا ( یعنی تیرا باپ جہنمی تھا۔ عادتیں مرتے دم تک ساتھ رہتی ہیں۔ عادت ایسا وائرس ہے جو آہستہ آہستہ خاموشی سے بدن میں داخل ہوتا اور نشوونما پاتا ہے ہماری بے خبری سے آب و غذا حاصل کرتا ہے اور ہمیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ پورے بدن کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہوتا ہے۔



















































