سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے ، اْس نے آئینے میں اپنا تنقیدی جائزہ لیا اور قدرے مطمئن ہو کر مہمان خانے کی جانب قدم بڑھائے ، کمرے میں داخل ہوتے وقت ہمیشہ کی طرح دل کی دھڑکن تھوڑی بے ترتیب ہو رہی تھی، جْھکی نظر کے ساتھ سلام کر کے وہ صوفے کے کونے پرٹِک گئی ، امی نے بہانے سے ہلکا سا کھانس کراْسے دیکھا اور وہ اٹھ کر چائے بنانے لگی،
مہمان خواتین نے معنی خیز انداز سے ایک دوسرے کودیکھا اور زیرِ لب مسکرا کر چائے کا کپ اْس کے ھاتھ سے پکڑ لیا۔ اْس کے بعد حسبِ سابق اْسکی تعلیم کے بارے میں استفسارہوتا اور ساتھ ساتھ اْس کے سراپے کا بغور جائزہ لیا جاتا جیسے قربانی کے جانور کا لیتے ہیں(اَب تو اسے یہی محسوس ہونے لگا تھا ) اْسے ایسے لگتا جیسے گیلی لکڑیوں کا دْھواں اْس کے گلے میں بھر گیا ہے، وہ بہانے سے اپنے کمرے میں چلی آتی بعد میں رشتہ لیکر آنے والی خاتون آ کر کوئی عْذر پیش کرتیں کہ صاف انکار کا بتانے کا حوصلہ شاید اْن میں بھی نہ ہوتا تھا۔صاحبو !! دل دکھانا شاید ہمارا قومی مشغلہ بن گیا ہے ، یہ روز کی کہانی ہے اور نجانے کتنی بیٹیاں اِس اذیت سے گزرتی ہیں ، رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والوں نے اِسے کاروبار بنا لیا ہے پہلے تو جہیز کی فہرستیں ہوتی تھیں ،اب ایسا رشتہ ڈھونڈتے ہیں جہاں لڑکی جاب بھی کر رہی ہوتاکہ بعد میں لڑکے کے معاشی حالات سنوارنے میں بھی مدد کرے اور گھر گرستی بھی سنبھالے ، ھمارے آقا نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو باعثِ رحمت کہا ہے اورہم اپنی کوتاہیوں سے اِسے زحمت بنا رہے ہیں ، اِتنے پاکیزہ اور مقدس رشتوں کو لین دین بنا دیا ہے۔



















































