بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ہمارے نظامِ شمسی میں کتنے ممکنہ سیارے ہیں؟

datetime 31  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج تک آپ نے سائنس کی کتابوں میں ہمارے نظامِ شمسی کے نو سیاروں کے بارے میں پڑھا ہوگا‘ پھر آپ نے سنا ہوگا کہ پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا‘ لیکن اب کہا جارہا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں ممکنہ طور پر دو ہزار سے زائد سیارے موجود ہیں۔امریکی ماہرین فلکیات کے ایک ریسرچ گروپ کا کہنا ہے کہ

ہمارے نظامِ شمسی میں سیاروں کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے بشرطیکہ سیارے کی تعریف میں تبدیلی کردی جائے۔مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ فلکیات امریکا میں منعقد ہونے والی 48 ویں ’’لیونر اینڈ پلینٹری سائنس کانفرنس‘‘ میں اپنا ایک مقالہ پیش کررہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں پلوٹو سے لے کر بیرونی حدود تک کے درمیان سینکڑوں کلومیٹر قطر والے ایسے کئی اجسام دریافت ہوچکے ہیں جنہیں فی الحال ’’بونے سیارے‘‘ اور ایسٹیرائیڈز (شہابیے) قرار دیا جاتا ہے جب کہ ان اجرامِ فلکی پر مشتمل پٹی کا نام ’’کُوپر بیلٹ‘‘ (Kuiper belt) رکھا گیا ہے۔اس تبدیلی کے نتیجے میں جہاں پلوٹو کو ایک بار پھر سیارے کا مقام حاصل ہوجائے گا وہیں سیاروں کی فہرست میں ایسے بہت سے دوسرے اجرامِ فلکی بھی شامل ہوجائیں گے جو اس وقت سیارچوں یعنی سٹیلائٹس کے تحت شمار کیے جاتے ہیں۔کوپلر بیلٹ اور نظامِ شمسی اب تک اس پٹی میں دریافت

شدہ اجسام کی تعداد 140 کے لگ بھگ ہے جب کہ پلوٹو کو اس پٹی کا سب سے پہلا رکن بھی قرار دیا جاتا ہے تاہم اندازہ یہ ہے کہ کوپر بیلٹ میں اجرامِ فلکی کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر سیارے کی تعریف میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے اسے وسعت

دے دی جائے تو کوپر بیلٹ والے اجسام بھی سیاروں میں شامل ہوجائیں گے بلکہ مختلف سیاروں کے چاند یعنی سیارچے بھی ترقی پاکر سیارے بن جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…