منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد،لرزہ خیز انکشافات

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

گوادر (آئی این پی ) ایڈز ائچ آئی وی کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی منیجر ڈاکٹر داؤد نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کے مر یضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ ضلع کیچ میں 260اور گوادر میں 16مر یض ایڈز کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایڈز کی بیماری انتقال خون ، استعمال شدہ سرنج اور دیگر اوزار کے استعمال سے دوسر ے مر یض میں منتقل ہوتاہے۔ ملک بھر کے ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں ایچ آ ئی وی ٹیسٹ کی سہو لت موجود ہے۔

۔بدھ کو صو بائی ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کے تحت معلو ماتی سیشن کا انعقاد محکمہ صحت ضلع گوادر کے آ فس میں سیشن کی صدارت ضلعی ہلیتھ آ فیسر گوادر ڈاکٹر اختر بلیدی نے کی۔سیشن سے خطاب کر تے ہوئے ایڈز ائچ آئی وی کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی منیجر ڈاکٹر داؤد نے شرکاء کو بتا یا کہ ایڈز ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس سے انسان زندگی بھر نقاہت کا شکار ہوتا ہے لیکن بروقت علاج سے مر یض کی حالت سنبھل سکتی ہے مر یضوں میں بنیادی طور پر ایچ آئی وی کا وائرس انتقال خون ، استعمال شدہ سرنج اور دیگر اوزاروں سے پھیلتا ہے بلڈ بنک سے حاصل کیا جانے والا خون بھی ایچ آئی وی ایڈز وائرس کا ایک اہم سبب ہے جہاں بلڈ سستے داموں فروخت کیاجاتا ہے اور مشاہدے میں آیا ہے کہ یہ خون نشہ کی لت میں مبتلا افراد سے حاصل کی جاتی ہے جو اپنا خون سستے داموں بلڈ بنک کو فروخت کرتے ہیں۔ لیکن مرض کی بروقت تشخیص اور علاج سے اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے لوگوں میں شعور وآ گہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری دوسر ے انسانوں میں منتقل ہورہی ہے جس کے لےئے ضر ورت اس امر کی ہے کہ اس موذی مرض کے حوالے سے شعور وآگہی کے پروگرام کو تیز کیاجائے اس حوالے سے میڈیا کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں ایک لاکھ آ ٹھ ہزار مر یض ایچ آ ئی وی ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہیں

ضلع کیچ میں مر یضوں کی تعداد 260ہے جہاں 224خواتین، 27مرد اور 9بچوں میں ایچ آ ئی وی ایڈز کی تصد یق ہوچکی ہے جبکہ گوادر میں ایچ آ ئی وی ایڈز میں مبتلا مر یضو ں کی تعداد 16ہے جن میں مرد وں کی تعداد 9خواتین کی 4اور بچوں کی 3ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آ ئی وی ایڈز کے علاج کے لےئے سہو لیات فراہم کی گئی ہیں جس کے تحت ملک کے تمام ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں ایچ آ ئی وی ایڈز کی تشخیص اور علاج کی سہو لیات بہم پہنچائی گئی ہیں کوشش کر رہیں کہ رول ہیلتھ سینٹر ( آر ایچ سی) اور بنیادی مراکز صحت ( بی ایچ یوز ) میں بھی یہ سہو لیات پہنچائی جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ بر وقت علاج اور احتیاطی تدا بیر اختیار کر نے سے مرض کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے اگر کسی مر یض میں ایچ آ ئی وی ایڈز کی علامات ظا ہر ہوں تو وہ فوراً اسپتال کر رخ کر ے باقاعدگی سے دوائی استعمال کر نے سے مرض کے نقصان مزید کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سیشن میں پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم گلزار گچکی، پروجیکٹ منیجر ایچ آ ئی وی تربت غفور دشتی، ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالطیف دشتی، ڈبیلو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر عبدالواحد، سرجن ڈاکٹر الہی بخش، ڈاکٹر اسلم دوستین، ڈاکٹر پرویز، ڈاکٹر فاروق، این آر ایس پی کے رستم جان گچکی، آرسی ڈی سی کے نمائند ے عبدالسلام بلوچ اور سماجی کارکن محمد حیات شر یک تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…