جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لندن میں بھی قطری چھاگئے، شاہی خاندان بھی ششدر،ناقابل یقین انکشافات

datetime 26  مارچ‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی) برطانوی دارالحکومت لندن میں پراپرٹی کی ملکیت کے حوالے سے کئے جانے والے تازہ ترین سروے میں حیران کن طور پر قطری سرمایہ داروں نے ملکہ برطانیہ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے لندن میں پراپرٹی کی ملکیت کے حوالے سے تحقیقاتی ادارے ڈیٹسچا کے جمع کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں مرتب کی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کینیری وارف گروپ انویسٹمنٹ ہولڈنگز جو قطر

انویسٹمنٹ اتھارٹی اور امریکی سرمایا کار ادارے بروک فیلڈ کی مشترکہ ملکیت ہے، برطانوری دارالحکومت میں 21.5 ملین (2 کروڑ 15 لاکھ) اسکوائر فٹ پر مشتمل ملکیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ قطر کی حکومت بھی لندن میں 1.8 ملین (18 لاکھ)اسکوائر فٹ جگہ کی مالک ہے جب کہ اس کے مقابلے میں برطانیہ کے شاہی خاندان کے پاس صرف 7.3 ملین ( 73 لاکھ) اسکوائر فٹ جگہ ہے۔قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی نے گزشتہ برس کہا تھا کہ لندن میں قطر کی سرمایہ کاری 30 ارب یورو تک پہنچ چکی ہیں اور سرمایہ کاری کے لئے برطانوی دارالحکومت سب سے موثر جگہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی چیلسی بیرکس، اولمپک ولیج اور شارڈ سمیت کنیری وارف، جہاں لندن کی چند بڑی عمارتیں موجود ہیں، کی ملکیت رکھتی ہے۔تحقیقاتی ادارے ڈیٹسچا نے لینڈ رجسٹری، کمپنیز ہاس اور ویلیو ایشن آفس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ لندن میں دوسری بڑی پراپرٹی ملکیت کا حامل سٹی آف لندن کارپوریشن ہے جس کے پاس 17.4 ملین (ایک کروڑ 74 لاکھ) اسکوائر فٹ جگہ ہے۔ لندن میں پراپرٹی کے اعتبار سے تیسرا نمبر ٹرانسپورٹ آف لندن کا آتا ہے جس کے پاس 14.9 ملین ( ایک کروڑ 90 لاکھ) اسکوائر فٹ جگہ موجود ہے۔ انشورنس کمپنی اویوا اور فرانچ بینک بی این پی پاریباس بالترتیب 90 لاکھ اسکوائر فٹ اور 75 لاکھ اسکوائر فٹ کی مالک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…