پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

28 ویں آئینی ترمیم ، اپوزیشن اور حکومت میں تعاون کی نئی مثال قائم،اراکین ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ووٹ ڈالنے گئے

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد( آئی این پی ) فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی 28 ویں ترمیم کے حق میں پہلا ووٹ وزیر اعظم محمد نواز شریف جب کہ آخری ووٹ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کاسٹ کیا ، اپوزیشن اور حکومت میں مثالی تعاون کی فضا دیکھنے میں آئی ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دائیں طرف کی لابی میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے گئے ۔ حکومتی جماعت سے

زیادہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اس ترمیم کو منظور کروانے کے لئے پرجوش تھیں ۔ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے ارکان ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے لابی میں چلے گئے تو پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکانباجماعت ووٹ کاسٹ کرنے آئے انتہائی پرجوش تھے ۔ جب کہ جماعت اسلامی ، قومی وطن پارٹی ، عوامی مسلم لیگ اور فاٹا اراکین اکٹھے ووٹ ڈالنے آئے۔ ایم کیو ایم کے اراکین الگ سے ووٹ ڈالنے آئے سب سے آخر میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ووٹ کاسٹ کیا وہ وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ لابی میں داخل ہوئے.قومی اسمبلی میں کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع دو سالوں کے لئے آئین و قانون میں ترامیم کے دو الگ الگ بلز منظور کر لیے گئے ‘ 28 ویں آئینی ترمیم کو 255 ووٹوں سے دو تہائی اکثریت سے زائد منظور کیا گیا ہے ، آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا، بلز ہنگامی طور پر سینیٹ پاکستان کو ارسال کردیئے گئے ، دونوں اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی پارٹی نے حکومت کے ساتھ نہیں دیا ، قوم پرست اتحادی جماعت نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ دینی اتحادی جماعت غیر جانبدار رہی ، جماعت اسلامی پاکستان آئینی ترمیم کے بارے میں اپنی ترامیم سے دستبردار ہو گئی ، دو تہائی اکثریت سے ہی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے

پانے والی چاروں ترامیم کو منظور کر لیا گیا ، ترامیم کے تحت ملزمان کو 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنے ، مرضی کا وکیل کرنے ، قانون شہادت کا اطلاق اور ٹرائل و تفتیش کے طریقہ کار میں ردوبدل کیا گیا ہے ،60 دنوں تک ملزم کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کرنے کی شق کو برقرار رکھا گیا ہے ، توسیع کی مدت مکمل ہونے پر مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں منتقل ہو جائیں گے ۔دونوں ترمیمی بلز وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے ایوان میں پیش کیے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق میں ہوا ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی ۔جماعت اسلامی پاکستان نے بھی ترمیمی بلز کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اجلاس میں شریک نہ ہو سکے ۔ پہلے مرحلے میں آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…