پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی ایک ریاست کے ایک گائوں میں سکول کے بچے فیس کی جگہ کون ساکام کرتے ہیں؟ 

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(جاوید چوہدری ) بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گائوں برگئی میں ایک چھوٹا سا پرائیویٹ انگلش میڈیم سکول ہے‘ یہ سکول دنیا کا اپنی نوعیت کا واحد سکول ہے‘ سکول کے تمام بچوں کے والدین فیس کے بدلے ایک درخت لگاتے ہیں اور جب تک ان کا بچہ سکول میں تعلیم حاصل کرتا رہتا ہے‘ یہاس درخت کی حفات کرتے ہیں‘ اس دوران اگر درخت سوکھ جائے تو یہ اس کی جگہ نیا درخت لگاتے ہیں‘ سکول اب تک اس

سکیم کے ذریعے سات سو درخت لگوا چکا ہے۔یہ سکیم ہمارے جیسے ملک کیلئے ایک اچھا آئیڈیا ہے‘ عمران خان نے پچھلے دنوں دعویٰ کیا تھا ۔انہوں نے کے پی کے میں 75 کروڑ درخت لگوائے‘ یہ اب پنجاب میں ایک ارب درخت لگوائیں گے‘ آج موسمیاتی تبدیلیوں کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے بھی دعویٰ کیا حکومت ملک میں پانچ برسوں میں دس کروڑ پودے لگائے گی‘ ہمیںان پودوں‘ ان درختوں کی انتہائی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے‘ ہم اگر آج پودے نہیں لگائیں گے تو ہم کل پانی‘ خوراک اور صاف ہواتینوں کو ترس جائیں گےلیکن ہمیں ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہیے ہم جب تک چھتیس گڑھ کی طرح عوام کواس نیک کام میں شامل نہیں کریں گے ہم اس وقت تک ملک کو گرین پاکستان نہیں بنا سکیں گے‘ آپ عوام کو ساتھ شامل کریں‘ یہ سکیم کامیاب ہو جائے گی ورنہ یہ سارے پودے‘ سارے درخت صرف فائلوں میں لگیں گے‘ آپ کو گرائونڈ میں گھاس تک نظر نہیں آئے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آج پھر وفاق سے ایک مطالبہ بھی کر دیا اور دھمکی بھی دے دی سندھ کے ساتھ یقینا زیادتی ہو رہی ہو گی‘اس کواس کے سارے حق ملنے چاہئیں‘ ہم اس کے سٹرانگ بلیور ہیں لیکن صوبوں کو وفاق کو دھمکیاں بھی نہیں دینی چاہئیں‘ یہ دھمکیاں نفرت کے ایسے درخت ثابت ہو سکتی ہیں جو کل کو غلط فہمیوں کے جنگل بن جائیں گے اور ان جنگلوں میں نفرت کے درندے پھریں گے‘ ہمیں احتیاط کرنی چاہیے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…