جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کیا ہورہاہے؟اہم عرب ملک میں روسی فوجوں کی موجودگی کی تصدیق،امریکہ اور یورپ میں کھلبلی مچ گئی

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

ماسکو/لندن(آئی این پی )روس نے لیبیا کی سرحد کے قریب اپنی فورسز کی تعیناتی کی تردید کی ہے تاہم اسکے باوجود معروف برطانوی اخبار نے مصر کے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مصر کی سرزمین پر 22 رکنی روسی سیکورٹی ٹیم کی موجودگی کی تصدیق کردی ۔برطانیہ کے موقر اخبار گارڈئین نے مصر کے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مصر کی سرزمین پر 22 رکنی روسی سیکورٹی ٹیم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

کریملن کے عہدیدار اور قانون ساز ان شائع شدہ اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں کہ ماسکو نے لیبیا کی سرحد کے قریب مصر میں واقع ایک فوجی اڈے پر خصوصی فورسز اور ڈرون تعینات کیے ہیں۔یہ تردید ایسی کئی اطلاعات کے بعد سامنے آئی کہ لیبیا کی سرحد سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بحیرہ روم کے ساحلی قصبے سدی بارانی میں روسی فوجی سرگرمی نظر آئی ہے۔نام ظاہر کیے بغیر بعض امریکی عہدیداروں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا کہ روس کا بڑھتا ہوا کردار لیبیا کے باغی کمانڈر خلیفہ ہفتار کی حمایت کرنے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ہفتار اور اس کی نام نہاد لیبیا کی نیشنل آرمی ملک کے مشرق میں قائم حکومت کی حامی ہے۔لیکن وہ طرابلس میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے سے انکار کرتے ہیں۔روس کی ‘ریا نوستی’ نیوز ایجنسی نے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر روسی فورسز کی تعیناتی کی یہ رپورٹس دیکھی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے ان کے بارے میں دیگر ذرائع سے نہیں سنا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ “ہمارے پاس اس سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے۔بین الاقوامی امور سے متعلق ایک قانون ساز ولادیمر دزاباروف نے تعیناتی کی خبروں کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔روس کی وفاقی

اسمبلی کے ایوان زیریں اسٹیٹ ڈوما کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ایندری کراسوف نے کہا کہ یہ “جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش ہے جن کو مقصد بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…