جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاؤں سے بدبو کیوں آرہی ہے؟ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہری کالرزہ خیز اقدام

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

ابوظہبی(آن لائن) متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے ایک پاکستانی الیکٹریشن نے معمولی بات پر مشتعل ہوکر اپنے ہی ہم وطن کا گلا کاٹ ڈالا۔ غیر ملکی میڈیاکے مطابق22 سالہ پاکستانی الیکٹریشن اور اس کا ساتھی دوپہر کے وقفے کے دوران آرام کے لئے کمرے میں گئے تھے۔لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے پتہ چلا کہ دونوں میں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ ساتھی محنت کشوں نے مداخلت کرکے لڑائی رکوائی لیکن چند لمحے بعد ہی 22 سالہ

ملزم نے اپنے ہم وطن محنت کش پر حملہ کرکے اس کا گلا کاٹ ڈالا۔ ملزم نے پولیس کو بتایاکہ جب وہ آرام کے لئے لیٹے تو اس کے ساتھی نے اپنے پاؤں اس کے منہ کے سامنے رکھ دئیے، جن سے شدید بدبو آرہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے ساتھی کو پاؤں پیچھے کرنے کو کہا مگر اس نے بات نہ مانی جس پر دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ملزم قریبی ویئر ہاؤس گیا اور وہاں سے ایک تیز دھار استرا اٹھالایا جس کے ساتھ اپنے ہم وطن محنت کش کا گلا کاٹ ڈالا۔ خون میں لت پت نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھی محنت کش کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا جن سے شدید بدبو آرہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے ساتھی کو پاؤں پیچھے کرنے کو کہا مگر اس نے بات نہ مانی جس پر دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ملزم قریبی ویئر ہاؤس گیا اور وہاں سے ایک تیز دھار استرا اٹھالایا جس کے ساتھ اپنے ہم وطن محنت کش کا گلا کاٹ ڈالا۔ خون میں لت پت نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھی محنت کش کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ مشتعل ہوکر حملہ کر بیٹھا جو جان لیوا ثابت ہوا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…