منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

جاوید لطیف کیا کم تھے کہ۔۔۔ایک اور ن لیگی وزیرنے عمران خان کو کیا کچھ کہہ ڈالا

datetime 11  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان اسمبلی میں آکردکھائیں انہیں بتائیں گے کہ ہاتھ پائی کیا ہوتی ہے،وہ اسمبلی سے باہر بیٹھ کر مفتا کھانے کے عادی ہوچکے ہیں، اسمبلی سے مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں اور اپنے ارکان کی غلط تربیت کررہے ہیں، وہ خود گالی دیں تو ٹھیک ہے، ہم بات کریں تو جمہوریت کے خلاف ہوجاتی ہے، عابد شیر علی کی فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے رہنما وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ جا وید لطیف نے جو کہا وہ غلط تھا لیکن جاوید لطیف پر پی ٹی آئی والوں نے دھاوا بولا اور اس کے بعد عمران خان نے کہا میں ہوتا تو اس سے زیادہ کرتا، اب کسی رکن پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے، وہ خود اسمبلی آئیں پھر پتا چلے گا کہ ہاتھا پائی کیسے ہوتی ہے۔ وہ شیروں سے ہاتھا پائی برداشت نہیں کر سکتے ۔عمران خان کے ریلو کٹا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو کھا گئے، پھٹیچر کپتان اور ریلو کٹا صوبائی حکومت ٹی 20 کے لئے تیار ہو جائیں، اس مرتبہ ریلو کٹو ںکو میدان میں بھگا بھگا کر ماریں گے اب خوشحالی کا ریلہ خیبر پختونخوا میں بھی آئے گا۔وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں پر کسی کو بھی تحفظات نہیں ہونے چاہیے، فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانیں کے لئے ہیں، ہم انصاف کے لئے فوجی عدالتوں کےساتھ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…