جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پھانسی کے پھندوں کا استعمال شروع، آئی ایس پی آر نے زبردست اعلان کردیا

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی) فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشتگردوں کی سزاؤں پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہوگیا،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 5 خطرناک دہشت گردوں کو ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پھانسی دے دی گئی،تمام دہشتگردوں کو فوجی عدالتوں نے سزا سنائی تھی ۔ بدھ کوپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پانچ خطرناک دہشت گردوں جنہیں فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی

تھی کو پھانسی دے دی گئی ۔ ان دہشت گردوں میں شوکت علی ولد عبدالجبار، امداد اللہ ولد عبد الواجد، صابر شاہ ولد سید احمد شاہ، خاندان ولد دوست محمد خان اور انور علی ولد فضل غنی شامل ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شوکت علی ولد عبدالجبار تحریک طالبان پاکستان کا ایک اہم رکن تھا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں کئی فوجی شہید اور زخمی ہوئے ، ملزم نے ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا ۔ ملزم پر پانچ الزامات تھے جس پر سے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ امداد اللہ ولد عبدالواجد بھی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو ضلع بونیر میں تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اس پر پانچ الزامات تھے جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ پھانسی کی سزا پانے والے دہشت گرد صابر شاہ ولد سید احمد شاہ تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ خاندان ولد دوست محمد خان بھی

تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے۔ مجرم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ انور علی ولد فضل غنی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا ۔

ان حملوں میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے اور اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…