منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

پھانسی کے پھندوں کا استعمال شروع، آئی ایس پی آر نے زبردست اعلان کردیا

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی) فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشتگردوں کی سزاؤں پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہوگیا،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 5 خطرناک دہشت گردوں کو ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پھانسی دے دی گئی،تمام دہشتگردوں کو فوجی عدالتوں نے سزا سنائی تھی ۔ بدھ کوپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پانچ خطرناک دہشت گردوں جنہیں فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی

تھی کو پھانسی دے دی گئی ۔ ان دہشت گردوں میں شوکت علی ولد عبدالجبار، امداد اللہ ولد عبد الواجد، صابر شاہ ولد سید احمد شاہ، خاندان ولد دوست محمد خان اور انور علی ولد فضل غنی شامل ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شوکت علی ولد عبدالجبار تحریک طالبان پاکستان کا ایک اہم رکن تھا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں کئی فوجی شہید اور زخمی ہوئے ، ملزم نے ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا ۔ ملزم پر پانچ الزامات تھے جس پر سے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ امداد اللہ ولد عبدالواجد بھی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو ضلع بونیر میں تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اس پر پانچ الزامات تھے جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ پھانسی کی سزا پانے والے دہشت گرد صابر شاہ ولد سید احمد شاہ تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ خاندان ولد دوست محمد خان بھی

تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے۔ مجرم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ انور علی ولد فضل غنی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا ۔

ان حملوں میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے اور اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…