ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

مُبارک ہو بیٹی ہوئی ہے

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

آپریشن تھیٹر سے باہر نکلتی نرس نے اُس سے مُخاطب ہوتے ہوئے اطلاع دی۔ دو سال ہوئے شادی کو اور آج اولاد کی خوشی نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر نے بتایا تھا کچھ پیچیدگیوں کی بنا پر میجر آپریشن کرنا پڑے گا۔ توقع تھی کے اللہ کی ذات اولادِ نرینہ سے نوازے گی لیکن۔۔ مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔ یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے اُسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ جہانزیب نام تھا اُس کا۔ شکل و صورت سے مردانہ وجاہت چھلکتی تھی۔

لڑکیوں تو جیسے پیروں کی جوتی سمجھتا تھا۔ آج اک لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں دیکھا گیا تو کل نئی لڑکی کے ساتھ پارک میں۔ فلرٹ کرنا تو دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جوانی کا عروج تھا جوانی بھی وہ جو بے مُہار ہو۔ انہیں رنگینیوں میں غرق اک لڑکی کی زندگی تباہ کردی لیکن پیشانی پر ندامت کی شکن تک نا آئی۔ روز کا معمول جو ٹھہرا تھا۔ بات جب شادی تک پہنچی تو لڑکی کو یہ کہہ کر دامن بچا لیا کے گھر والے نہیں مان رھے۔ حقیقت میں خود نہیں چاہتا تھا ایسا۔ اپنی عصمت اندھی ہوس میں لُٹانے کے بعد لڑکی کہہ پائی تو بس اتنا۔۔۔ میں جذبات کی رو میں بہہ کر جو کر گئی اس کا صِلہ بھی پا لیا آج۔ یہی نصیب تھا میرا۔ ہاں! اللہ پاک سے دُعا ہے کے مُجھے تو میرے کئے کہ سزا ملنی ہی ہے لیکن تمہیں۔۔۔۔۔تمہارے نصیب میں اگر اولاد ہے تو دُعا ہے پہلی اولاد بیٹی ہو۔ جوانی کے نشے میں چُور یہ بات بھُلا بیٹھا تھا۔ تھا ہی ایسا بے فکر, لا پرواہ۔ کچھ عرصہ بعد ماں نے خاندان میں اک لڑکی دیکھ کر رشتہ طے کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصہ میں شادی بھی ھوگئی۔ جب بیوی نے گھر میں نئے مہمان آنے کی خوشخبری سنائی بہت خوش تھا اُس دن۔ قدم زمین پر نا ٹکتے تھے اور جس دن نرس نے بتایا کے” مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے “اُس دن اُس لڑکی کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے دماغ پر۔” کیا میری بیٹی میرا بدلہ چُکائے گی؟” اک ٹِیس سی اُٹھی سینے میں۔

میری بیٹی معصوم ہے۔وہ بھلا کیوں چُکائے گی۔ آنسو رواں تھے آنکھوں سے اور لڑیوں کی صورت دامن میں جذب ہو رہے تھے۔ کیا کہیں میری بیٹی کیلئے بھی کوئی جہانزیب پیدا ھو چکا ہے؟ ” کیا میرا کِیا یہ معصوم سہے گی؟ الفاظ نہیں تھے ہتھوڑے تھے جو برس رھے تھے۔ سینے میں ٹِیس بڑھتی جا رہی تھی۔آس پاس سے گُزرنے والے حیرت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ نہیں میرے مولا۔ میرے گُناہوں کی سزا مُجھے دینا۔میری بیٹی کو نہیں۔ بڑبڑاتا ہوا کُرسی سے اُٹھا اور مسجد کی جانب لپکا۔ درد کی شدت اس قدر تھی کے شاید سینا پٹھنے والا تھا لیکن پرواہ ہی کب تھی۔ من چاہ رہا تھا چیخے چلائے لیکن آواز کہیں دور اپنے ہی کئے کے بوجھ تلے دفن تھی حلق میں اور پھر گِر پڑا سجدے میں۔۔۔۔ بس روئے جا رھا تھا۔بچوں کی طرح بِلک بِلک کے۔ بنا کچھ بولے بِنا کچھ کہے۔ مُبارک ہو بیٹی ہوئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…