منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

دِل کے مریضوں کو ڈھائی لاکھ میں ملنے والے سٹنٹ کی اصل قیمت کیا ہے؟منافع خوری کی حد ہوگئی،لرزہ خیزانکشاف

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی پرائسنگ پالیسی تیار‘ ڈیوائس پالیسی کے نام سے نیا فارمولا آگیا‘ سٹنٹ کی درآمدی قیمت پر منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ 50فیصد تک مقرر کردی گئی‘ 20ہزار میں درآمد ہونے والا سٹنٹ اب اڑھائی لاکھ کی بجائے 30ہزار میں دستیاب ہوگا‘ ڈیوائس پالیسی کی حتمی منظوری پالیسی بورڈ اور بعد میں وزیراعظم نواز شریف دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ڈیوائسز پالیسی کے نام سے آلات کی نئی پرائسنگ پالیسی مکمل کرلی ہے جس میں سٹنٹ کی درآمدی قیمت میں منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد تک مقرر کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چالیس ہزار سے بیالیس ہزار میں درآمد ہونے والا سٹنٹ تریسٹھ سے پنسٹھ ہزار‘ پچاس ہزار تک درآمد ہونے والا سٹنٹ زیادہ سے زیادہ اسی ہزار تک فروخت کیا جاسکے گا۔ ڈسٹری بیوٹرز کے کسٹم ریکارڈز اور درآمدی قیمت کے ریکارڈ پر سٹنٹ کی قیمت مقرر ہوگی۔ ذرائع کے مطابق پچاس فیصد منافع میں ڈاکٹروں و ہسپتالوں کی فیس ‘ ڈسٹری بیوشن چارجز سمیت تمام دفتری ٹرانسپورٹ اور مارکیٹنگ اخراجات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت تیس ہزار میں درآمد ہونے والا سٹنٹ اب پنتالیس ہزار سے لے کر سنتالیس ہزار میں فروخت ہوگا۔ نئی پالیسی کے تحت ڈسٹری بیوٹرز اب چار سے پانچ فیصد منافع ہی کما سکے گا۔ ڈسٹری بیوٹرز اب چار سے پانچ فیصد منافع ہی کما سکے گا۔ ذرائع کے مطابق رواں ہفتے پالیسی بورڈ اس پرائسنگ پالیسی کی منظوری دے گا جس کے بعد یہ معاملہ کابینہ یا وزیراعظم نواز شریف کے پاس بھیجا جائے گا۔ حکام کے مطابق درآمدی اور لوکل آلات دونوں کے لئے منافع کی پالیسی ایک جیسی ہوگی۔ سٹنٹ کی طرح بیلون‘ کیھٹرز اور دوسرے آلات کی بھی یہی پرائس پالیسی ہوگی ان کا اطلاق منظوری کے بعد ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…