جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

’’ماما ۔۔۔۔! پاپا بول کیوں نہیں رہے؟‘‘ لاہور دھماکے میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی مبین ،کانسٹیبل محمد اسلم کو ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ایسا کیوں تھا ؟ جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ چیئرنگ کراس میں شہید ہونے والے کیپٹن (ر) احمد مبین شہید سی ٹی او کے ساتھ شہید ہونے والے دو گن مین کانسٹیبل محمد اسلم اور کانسٹیبل محمد عرفان کا تعلق ایلیٹ فورس قصور سے تھا، دونوں ہی فرض شناس اور بہادر نوجوان تھے جنہوں نے عوام کی جان و مال کی خفاظت کے لیے اپنے افسر شہید احمد مبین کے ساتھ

ہی جامِ شہادت نوش کیا۔کانسٹیبل محمد اسلم کا تعلق ضلع قصور سے تھا جبکہ محمد عرفان منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ سے تھا۔کانسٹیبل محمد اسلم ضلع قصور کے علاقے جونیکی میں 21 مئی 2006ء کو محکمہ پولیس ضلع قصور میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا، محکمہ کے رول اینڈ ریگولیشن کے مطابق بھرتی ہوتے ہی پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد میں تعینات ہوگیا اور 2 نومبر 2009ء کو ضلع قصور واپس آمد کی، قصور میں تین سال تک فرض شناسی کے ساتھ فرائض سر انجام دینے کے بعد 12 اپریل 2012ء کو ایلیٹ فورس قصور جوائن کی اور بعد میں دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ میں 15 جون 2013 کو شمولیت اختیار کر لی۔ جہاں پر کیپٹن (ر) احمد مبین جیسے شفیق افسر نے محمد اسلم کی فرض شناسی، بہادری اور تُندہی کو دیکھتے ہوئے اپنا گن مین رکھ لیا۔ افسراور ماتحت کا اتنا مضبوط رشتہ تھا کہ جب شہید احمد مبین کو سی ٹی او تعینات کیا گیا تو محمد اسلم کو بھی اپنے ساتھ لے آئے اور 13 فروری کی شام پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چیئرنگ کراس پر ڈرگ ایکٹ کے خلاف دوا ساز کمپنیوں، فارما مینو فیکچر اور کیمسٹس کے حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران دہشت گردوں کی بزدلانہ

کاروائی کے دوران خود کش بم دھماکے کی وجہ سے سینئر افسران کے ساتھ کانسٹیبل محمد اسلم بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا، کانیسٹیبل محمد اسلم کی نمازِ جنازہ ایلیٹ سینٹر بیدیاں اور پھر ڈسٹرکٹ پولیس لائن قصور میں ادا کی گئی۔ کانسٹیبل محمد اسلم شہید کی میت جب آبائی گاؤں جونیکی پہنچی تو پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا،ہر ایک آنکھ اشکبار تھی،

ماں کی گود اُجڑ چکی تھی، والد غم سے نڈھال تھا، 2 سال قبل شادی کے بندھن میں بندھنے والی دولہن بیوہ ہو چکی تھی اور ایک سالہ معصوم بیٹی اپنی ماں سے پوچھ رہی تھی کہ ” ماما ! پاپا بول کیوں نہیں رہے؟” اس بات کا جواب معصوم بچی کی ماں کے پاس تھا اور نہ ہی وہاں پر موجود لوگوں کے۔ لیکن کمال کا حوصلہ تھا اس عظیم ماں کا جس نے جوان بیٹے کی لاش پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ” اگر مجھے وطن پر اپنے چاروں بیٹے بھی قربان کرنے پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرونگی”



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…