پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’ماما ۔۔۔۔! پاپا بول کیوں نہیں رہے؟‘‘ لاہور دھماکے میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی مبین ،کانسٹیبل محمد اسلم کو ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ایسا کیوں تھا ؟ جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ چیئرنگ کراس میں شہید ہونے والے کیپٹن (ر) احمد مبین شہید سی ٹی او کے ساتھ شہید ہونے والے دو گن مین کانسٹیبل محمد اسلم اور کانسٹیبل محمد عرفان کا تعلق ایلیٹ فورس قصور سے تھا، دونوں ہی فرض شناس اور بہادر نوجوان تھے جنہوں نے عوام کی جان و مال کی خفاظت کے لیے اپنے افسر شہید احمد مبین کے ساتھ

ہی جامِ شہادت نوش کیا۔کانسٹیبل محمد اسلم کا تعلق ضلع قصور سے تھا جبکہ محمد عرفان منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ سے تھا۔کانسٹیبل محمد اسلم ضلع قصور کے علاقے جونیکی میں 21 مئی 2006ء کو محکمہ پولیس ضلع قصور میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا، محکمہ کے رول اینڈ ریگولیشن کے مطابق بھرتی ہوتے ہی پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد میں تعینات ہوگیا اور 2 نومبر 2009ء کو ضلع قصور واپس آمد کی، قصور میں تین سال تک فرض شناسی کے ساتھ فرائض سر انجام دینے کے بعد 12 اپریل 2012ء کو ایلیٹ فورس قصور جوائن کی اور بعد میں دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ میں 15 جون 2013 کو شمولیت اختیار کر لی۔ جہاں پر کیپٹن (ر) احمد مبین جیسے شفیق افسر نے محمد اسلم کی فرض شناسی، بہادری اور تُندہی کو دیکھتے ہوئے اپنا گن مین رکھ لیا۔ افسراور ماتحت کا اتنا مضبوط رشتہ تھا کہ جب شہید احمد مبین کو سی ٹی او تعینات کیا گیا تو محمد اسلم کو بھی اپنے ساتھ لے آئے اور 13 فروری کی شام پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چیئرنگ کراس پر ڈرگ ایکٹ کے خلاف دوا ساز کمپنیوں، فارما مینو فیکچر اور کیمسٹس کے حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران دہشت گردوں کی بزدلانہ

کاروائی کے دوران خود کش بم دھماکے کی وجہ سے سینئر افسران کے ساتھ کانسٹیبل محمد اسلم بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا، کانیسٹیبل محمد اسلم کی نمازِ جنازہ ایلیٹ سینٹر بیدیاں اور پھر ڈسٹرکٹ پولیس لائن قصور میں ادا کی گئی۔ کانسٹیبل محمد اسلم شہید کی میت جب آبائی گاؤں جونیکی پہنچی تو پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا،ہر ایک آنکھ اشکبار تھی،

ماں کی گود اُجڑ چکی تھی، والد غم سے نڈھال تھا، 2 سال قبل شادی کے بندھن میں بندھنے والی دولہن بیوہ ہو چکی تھی اور ایک سالہ معصوم بیٹی اپنی ماں سے پوچھ رہی تھی کہ ” ماما ! پاپا بول کیوں نہیں رہے؟” اس بات کا جواب معصوم بچی کی ماں کے پاس تھا اور نہ ہی وہاں پر موجود لوگوں کے۔ لیکن کمال کا حوصلہ تھا اس عظیم ماں کا جس نے جوان بیٹے کی لاش پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ” اگر مجھے وطن پر اپنے چاروں بیٹے بھی قربان کرنے پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرونگی”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…