منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’موت کے سائے گہرے ہو گئے ‘‘ روزانہ 700لوگوں کی موت ہونے لگی ۔۔ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

فیصل آباد(آن لائن)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں 80لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں اور منشیات کے استعمال سے روزانہ 700افراد موت کا شکار ہورہے ہیں۔ جبکہ نوجوانوں میں شیشہ کا بڑھتا ہوا استعمال بھی منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، منشیات فروخت کرنے والوںکو معاشرتی دہشت گردقرار دیا جائے آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کے سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام وفاقی وزارت منصوبہ بندی

 

و اصلاحات کے پلیٹ فارم سے ینگ ڈویلپمنٹ کورکی شراکت سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر ان کی تعمیری مصروفیات بڑھا کر منشیات سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر منشیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایسے عوامل کی بھی حوصلہ شکنی کرناہوگی جن کی وجہ سے انسانی نفسیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر منشیات میں پناہ ڈھونڈتی ہے ۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ لڑکپن میں بہت سے نوجوان تفریح کے طو رپر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں تاہم وقت کے ساتھ وہ عام صحت مند انسانوں سے بہت دور چلے جاتے ہیں سیمینار سے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں ،سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر اطہر جاوید خاں‘ ڈاکٹر محبوب احمد‘ڈاکٹر عاصم عقیل اور ماہر غذائیات بینش اسد نے بھی خطاب کیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں سگریٹ کی فروخت نہ صرف مکمل طور ممنوع قرار دی گئی ہے بلکہ سگریٹ بیچنے والے دوکاندار کا ٹھیکہ بھی فوری طو رپر منسوخ کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ناظم اُمور طلبہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ کیمپس نیوز کے ذریعے بھی منشیات کے خلاف شعور اُجاگر کیا جا رہا ہے جس کے

 

مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ اس موقع پرمعروف معالج ڈاکٹر آصف باجوہ نے کہا کہ منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ لڑکپن کے دوستوں کا اصرار اور تفریحی رغبت ہے ۔ انہوں نے منشیات فروخت کرنے والوںکو معاشرتی دہشت گردقرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…