منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا کے نوجوان نے ویڈیو دیکھ دیکھ کر ایسا غیر قانونی کام کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے اس کو جیل کی ہوا کھانی پڑی

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسان میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں اور ذہین لوگوں کے کارنامے سن کے ہر انسان خوش ہو جاتا ہے لیکن ہر چیز کا ایک قانو ن بنایا گیا ہے اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تو اسکی قابلیت کی بھی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جاتی اور اسکی کامیابی کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔آج جدید دور میں ہر چیز انٹرنیٹ پر موجود ہے

جس میں ہر کام کیلئے ویڈیوزکے ذریعے معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ملائیشیا میں پیش آیا۔جب ایک 25سالہ نوجوان نے ویڈیوز کے ذریعے دانتوں کے علاج میں ماہر ڈاکٹرز کے برابر مہار ت حاصل کر لی اورڈاکٹر بن کے اپنا ایک کلینک چلانا شروع کردیا۔ملائیشیا میں ڈینٹیسٹ بننے کیلئے 6سال کی تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے مگر محمد اردن نامی شخص نے ان تمام قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے ویڈیوز سے دانتوں کے علاج اور بیماریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی اور لوگوں کا علاج کرنا شروع کیا۔ابھی کچھ ہی عرصہ یہ نوجوا ن اپنا کلینک چلا پایا تھا کہ اپنے ہی ایک مریض کی پولیس کواطلاع دینے پرپھانڈا پھوٹ گیا اور اس نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا اور غیر قانونی طور پر لوگوں کا علاج کرنے پر9ہزار ڈالر جرمانہ عائد کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…