جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

پاک ترک سکول کامعاملہ سنگین ہوگیا،طلباکے والدین نے حکومت کوبڑی دھمکی دیدی

datetime 24  فروری‬‮  2017 |

کوئٹہ (آن لائن )پاک ترک سکول کے طلباء کے والدین نادیہ بی بی ، سونیا بی بی اور نعمت اللہ نے سکولوں پر قبضے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالم گیر خان کی مثبت جدوجہد کی حمایت کا اعلان کردیا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو شدید سیاسی دباؤ کے ذریعے دھمکایا جارہاہے کہ انہیں ایک بدنام تنظیم معارف

فاؤنڈیشن کے حوالے کیاجائیگا جسکی سرپرستی موجودہ ترک حکومت کررہی ہے انہوں نے بتایا کہ اگست 2016ء میں پاک ترک فاؤنڈیشن سکولوں کو متوقع نقصان سے بچانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا وزارت خارجہ اور داخلہ کے آفیسران نے پاک ترک تعلیمی اداروں میں دخل اندازی سے اور ادارے کو کسی دوسری فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے سے بھی انکار کیاحالانکہ 20سال قبل پاک ترک ادارے قائم ہوئے تھے جو ہماری نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ترک صدر کے گزشتہ برس پاکستان کے دورے کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے جذبہ خوش سگالی کے طورپر 108ترک اساتذہ کو خاندان سمیت 3دن میں ملک بدر ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے ویزوں میں تاخیر کے باعث ان کی روانگی لیٹ ہوئی انہوں نے کہا کہ پاک ترک سکول کے اساتذہ اور انتظامیہ نے ہمیشہ قدرتی آفات میں پاکستانی عوام کی مدد کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین پر دو ترک شہریوں کو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے جسکا مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور میڈیا میں پاک ترک اداروں کو معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے کی باتیں سامنے آرہی ہے اور عالم گیرخان پر دباؤ ڈالا جارہاہے اور حکومتی ادارے اس میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عالمگیر خان کیساتھ بچوں کے سکولوں پر قبضے کی ناجائز کوششوں پر انکی مثبت جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…