بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

’’بڑے سیکولر بنے پھرتے ہو مگر ۔۔۔! ‘‘ بھارت میں مسلمان پولیس والے کو نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا مہنگا پڑ گیا ۔۔ محکمے نے کیا حکم دے دیا ؟ افسوسناک انکشاف

datetime 24  فروری‬‮  2017 |

احمد آباد (آئی این پی )بھارتی شہر احمد آباد میں پولیس افسران نے داڑھی رکھنے پر مسلمان کانسٹیبل کو کام کرنے سے روک دیا  ۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کانسٹیبل محمد ساجد صابر میاشیخ نے گزشتہ سال پولیس کو جوائن کیا جس کے بعد اسے پولیس ہیڈ کوارٹرز تعینات کیا گیا جہاں ابتدائی 9ماہ میں تو افسران نے داڑھی رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا

مگر گزشتہ 3ماہ سے اس پرداڑھی منڈوانے کیلئے دبا ڈالا جا رہا ہے۔مسلمان پولیس کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ 8سال سے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں لگایا ، بھرتی کے وقت بھی داڑھی کو بنیاد نہیں بنایا گیا مگر اب اس حوالے سے شدید دبا ڈالا جا رہا ہے اور نوکری کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے ۔محمد ساجد صابرنے مزید کہا کہ افسران نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر میں نے حج ادا کی ہے تو صرف اسی صورت میں داڑھی رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔داڑھی کی وجہ سے مجھے ڈیوٹی کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے ۔متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ ڈیوٹی کیلئے رپورٹ کرنے کئی بار دفتر گیا مگر افسران نے داڑھی کے ساتھ مجھے ڈیوٹی کرنے سے روک دیا ۔عدالت نے پولیس حکام کی جانب سے داڑھی منڈوانے کے احکامات کے بعد مسلمان پولیس اہلکار کو گجرات ہائی کورٹ منتقل کر دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…