ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

گہری نیند

datetime 16  فروری‬‮  2017 |

نومبر کا مہینہ تھا-اور ٹھنڈ اپنے عروج پر تھی رات گیارہ کا ٹایم تھا – ایک طالب علم ہاسٹل میں اپنے روم میں اکیلا گہری نیند سو رہا تھا اسکی داہنی جانب چھوٹی سی الماری پر کتابوں کا ذخیرہ تھا-
طالب علم نے نیند کی حالت میں کروٹ بدلی اور اسکا ہاتھ الماری پر جا پڑا- یکاک وہ چیخ کر اٹھ بیٹھا اور اپنا ہاتھ دیکھنے لگا جس پر چھوٹے دانتوں کے نشان تھے- اس نے سوچا کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا اور چیخیں مارنے لگا کہ بچاو بچاو مجھے سانپ نے کاٹ لیا-
اسکی چیخ و پکار سن کر قریب کے کمروں کے لڑکے بھی ارد گرد جمع ہو گیے- اس طالب علم کی حالت خراب ہونے لگی اور سخت سردی کے باوجود پسینہ آنے لگا- دہشت کا عالم یہ تھا کہ اسے نیم کے پتے لا کر دیے کہ اسکو چباو تو وہ بے تکلف انکو بنا کڑوے پن کے احساس کھا گیا-انہیں لڑکوں میں ایک لڑکا آگے بڑھا جسکا پورا خاندان ڈاکٹروں اور طبیبوں کا تھا-
وہ آگے بڑھا اور اس طالب علم کا بازو دیکھنے لگا جسے سانپ نے کاٹا- دیکھنے کے بعد وہ بولا
دانت تو ضرور گھسے ہیں مگر یہ دانت ۔۔۔
اسکے آگے وہ خاموش ہوگیا اور ایک ڈنڈہ پکڑا اور اس کمرے میں گھس گیا جہاں سانپ نے کاٹا تھا- آدھے گھنٹے تک باہر موجود سب لڑکے ڈنڈہ پیٹنے کی آواز سنتے رہے آخر جب وہ لڑکا باہر نکلا تو اسکے ہاتھ میں سانپ کی بجاے ایک چوہا تھا-
اسنے مسکراتے ہویے بولا
دیکھا جس نے تم کو کاٹا وہ سانپ نہیں ایک چوہا تھا
مجھے تمہارے بازو پر زخم کا نشان دیکھتے ہی معلوم پڑ گیا تھا کہ یہ نشان سانپ کا کاٹا نہیں بلکہ چوہے کے کاٹنے کا نشان ہے لیکن اگر مین اس وقت تمہیں کہ دیتا تو تم نے بالکل بھی یقین نہیں کرنا تھا اس لیے میں ڈنڈہ پکڑ کر اندر گھس گیا اور چوہے کو ڈھونڈ کر مارا اور اب حقیقت بتای-
یہ باتیں سن کر اور مرا ہوا چوہا دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے ادھ مرا ہوا طالب علم یکاک ہشاش بشاش نظر آنے لگا اور ایک دم ٹھیک ہو گیا- اور بولاہاں ہاں مجھے ابھی یاد آیا کہ کل ہی میری تمام نی کتابیں جلد ہو کر آییں اور جلد میں لیی کی بو پا کر چوہا بھی آگیا ہوگا تب ہی یہ واقعہ پیش آیا-
یہ سارا واقعہ لکھنے کا مقصد اتنا سا ہے کہ وہی طالب علم جو موت کو گلے لگانے کے لیے بے چین نظر آ رہا تھا حقیقت کھلنے پر کیسا ترو تازہ ہو گیا، حالانکہ اسکا کوی علاج بھی نہیں کیا گیا.بالکل ہماری طرح ہے کہ ہم اس وقت جن جن پریشانیوں سے گذر رہے ہیں جو جو تکالیف جھیل رہے ہیں، کہ زندگی تک کا حوصلہ ہم میں سے رخصت ہو رہا ہے. جبکہ یہ پریشانیاں حقیقت سے زیادہ نفسیاتی ہیں اور اسکا علاج صرف نیکی صدقہ اور اللہ تعالی کی عبادت ہے بس.
اگر ہمارے دل میں یہ بات آجایے کہ ہمارے مسلے صرف چوہے کے کاٹے کے مسلے ہیں نہ کہ سانپ کے کاٹنے کے تو یقین کریں
ہم آدھے سے زیادہ اپنی پریشانیوں سے نکل کرحوصلہ اعتماد واپس پا کر ہشاش بشاش ہو جاییں-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…