پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بھارت نے تباہ کن ایٹمی شہر کی تعمیر شروع کر دی خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئی

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے جنوبی ایشیاء کے کروڑوں معصوم عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ کرناٹک میں تباہ کن نیوکلیئر تھرمو بم بنانے کے لیے پورا ایٹمی شہر تعمیر کر دیا۔ نیوکلر تھرمو بم ایٹم بم سے بھی دوگنی تباہی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی ایٹمی ماہرین نے منصوبے کو خطے کے امن کے لیے تباہ کن قرار دے دیا۔بھارت نے خفیہ ایٹمی شہر کی تعمیر کا آغاز 2012 میں

یا، کرناٹک شہر میں 27 کلومیٹر رقبہ راتوں رات آمدورفت کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا، علاقہ مکین دربدر ہوئے پھر راز کھلا کہ یہاں خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے پورا شہر آباد ہو چکا ہے۔ اس خفیہ ایٹمی مرکز میں تھرمو نیوکلر بم بنانے کے لیے دن رات تجربات ہوتے ہیں، ایسا بم جو ایٹم بم سے بھی دوگنا زیادہ تباہی لا تا ہے۔ منصوبے کو پراسرار رکھنے کے لیے وسیع رقبے پر 15 فٹ اونچی دیوار بنائی گئی ہے، اس دیوار کے پیچھے اب کروڑوں لوگوں کو پل بھر میں موت کی نیند سلانے کے لیے خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔سٹیلائیٹ کے ذریعے اس خفیہ منصوبے کی تصاویر بھی منظرعام پر آ چکیں، عالمی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کا یہ خفیہ ایٹمی منصوبہ پورے خطے کے امن کے لیے تباہ کن ہے لیکن عالمی طاقتیں اب بھی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف بھارت کے ایٹمی مواد کی حفاظت کے نظام پر عالمی ادارے کئی بار تحفظات کا اا ظہار کر چکے اور ایران اور شمالی کوریا کے بعد اسے ناقص ترین قرار دیا جا چکا۔زیرزمین ایٹمی تجربات سے کرناٹک کے پورے علاقے میں پانی مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے اور ہر طرف خشک سالی ہے اور اس کی وجہ سے بھوک کے ڈیرے ہیں۔ پانی نہ ہونے پر زمین نے فصل پیدا کرنا چھوڑ دی اور 101 کسان اب تک خودکشی کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…