اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہزاروں سالوں سے اسرار کے پردوں میں چھپی عظیم تہذیب ’’موہنجودڑو‘‘جس کے رازوں کی پرتیں اٹھانے اور تاریخ کی الجھی گتھیاں سلجھانے میں کئی مایہ ناز تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ سرگرداں ہیں مگر آج تک کوئی بھی اس کے اسرار ڈھونڈ نکالنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا
مگر پاکستان کاایک ایف اے پاس کلرک لال چند اس پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کا نہ صرف ماہر ہے بلکہ ہزاروں سال پرانے ’’موہنجودڑو’’شہر میں رائج زبان کو سمجھنے میں مکمل طور پر قادر ہے۔موہنجودڑو کے عاشق لال چند کا کہنا ہے کہ میں ایف اے پاس ہوں اور ایک کلرک ہوں، میں موہن جو دڑو والوں کی زبان لکھ، پڑھ اور سمجھ سکتا ہوں۔لال چند ’’موہنجودڑو‘‘کی خاک چھانتا رہتا ہے کیونکہ اسے اپنے اجداد کی تاریخ کی تلاش ہے اس کاکہنا ہے کہ میں سولہ سال سے موہن جو دڑو کی زبان پہ کام کررہا ہوں، موہن جو دڑو میرا عشق ہے، اس کی مٹی سے میرے بڑوں کی خوش بو آتی ہے۔لال چند نے ہزاروں صفحات موہن جو دڑو کی زبان سے بھردئیے ہیں وہ کہتا ہے کہ اس زبان میں تینتالیس حروف تہجی ہیں۔لال چند نے بتایا کہ میں نے جتنا زبان کو پڑھا، یہ پتہ نہیں لگ سکا کہ یہ شہر کیوں ویران ہوا مگر یہ پتہ لگ گیا کہ’’موہنجودڑو‘‘میں انصاف اور قانون کیلئے باقاعدہ محکمے موجود تھے اور شہر کے لوگ انصاف اور قانون پسند تھے۔لال چند نے حکومت سندھ سے اپیل کی ہے کہ اس کی تحقیق کو سامنے لانے میں اس کی مدد کی جائے۔















































