جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

’’وہ ویڈیو جسے پاکستانی میڈیا سے ہٹا دیا گیا ‘‘

datetime 12  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی کے اینکر پرسن منصور علی خان نے پروگرام کے دوران سات سال پرانی بکی مظہر مجید کی ویڈیو چلا کر پاکستان کرکٹ بورڈ پر اور کھلاڑیوں کی سلیکشن پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے اینکرپرسن منصور علی خان نے اپنے پروگرام کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کی

سات سال پرانی بکی مظہر مجید کی فوٹیج دوبارہ چلاکر کرکٹ جوئے کی روک تھام سے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کی سلیکشن پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اینکرپرسن منصور علی خان نے دعویٰ کیا کہ اس فوٹیج کو سات سال پہلے کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے منـظر عام پر آنے کے ایک دن بعد ہی پاکستانی میڈیا سے ہٹا دیا گیا تھا، فوٹیج کے اندر مظہر مجید نے اس وقت ٹیم میں موجود 7کھلاڑیوں کی سپاٹ فکسنگ اور جوئے میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم کے 11میں سے 7کھلاڑی میرے ساتھ ہیں، ان کھلاڑیوں میں محمد عامر، محمد آصف، سلمان بٹ، عمر اکمل، کامران اکمل ،وہاب ریاض اور عمران فرحت کے بکی مظہر مجید نے اپنے ساتھ ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 11میں سے 7کھلاڑی میرے ساتھ ہیں۔اینکر پرسن منصور علی خان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت سپاٹ فکسنگ میں ملوث تین کھلاڑیوں محمد عامر، محمد آصف، سلمان بٹ کے

خلاف تو ایکشن لیا گیا تھا مگر فوٹیج میں نام لئے گئے باقی چار کھلاڑیوں کے خلاف نہ تو کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ ہی کوئی تحقیقات سامنے آئیں۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر پاکستان سپر لیگ میں شک کی بنیاد پر دو معروف کھلاڑیوں کو معطل کر کے وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے تو سات سال پہلے ایک بہت بڑے بکی کے اعتراف اور انکشاف کے بعد

کامران اکمل ، عمر اکمل ، وہاب ریاض اور عمران فرحت کو کیوں کھیلنے سے روکا نہیں گیا۔ واضح رہے کہ پروگرام کے دوران اظہار خیال کیلئے سینئر صحافی مرزا اقبال بیگ، سابق پی سی بی عہدیدار ندیم اکرم،معروف تجزیہ کار زاہد مقصود اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف بھی موجود تھے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…