ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

میرا محسن

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

پندھرویں صدی کی بات ہے، نیورمبرگ کے پاس ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک فیملی رہتی تھی جو اٹھاراں بچوں پر مشتمل تھی۔ اتنے لوگوں کا کھانا ہی فراہم کرنے کے لیے باپ کو دن رات لگاتار کام کرنا پڑتا تھا۔ وہ دن رات میں اٹھاراں گھنٹے کام کرتا تھا کیونکہ وہ ہی گھر کا سربراہ تھا اور بچوں کی ذمہ داری اس کے سر پر تھی۔ ان کا باپ ایک سنار تھا اور سونے کی کان میں دن بھر محنت مشقت میں جتا رہتا تھا۔ اتنے کٹھن حالات کے باوجود اس کے دو بیٹے مستقبل کے سنہرے خواب دیکھتے تھے۔

وہ دونوں آرٹسٹ بننا چاہتے تھے مگر بڑی اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا باپ ان کی پڑ ھائی کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ہر رات سونے سے پہلے دونوں لڑکے بہت پلاننگ کرتے اور بحث مباحثہ کرتے رہتے کے آخر کس طرح اپنے خواب کی تعبیر پائیں گے؟ آخر کار انھوں نے ایک حل نکال لیا۔سوچا کہ ایک سکہ اچھالیں گے اور اس سے یہ فیصلہ کریں گے کہ دونوں میں سے کونسا ایک بھائی سونے کی کان میں جا کر محنت مزدوری کرے گا اور کونسا اس کی کمائی پر چار سال نیورمبرگ کی یونیورسٹی میں آرٹس پڑھے گا۔ پھر کان میں کام کرنے والا بھائی یونیورسٹی میں داخلہ لے لے گا اور دوسرا اس کے لیے پیسے جوڑے گا اور کان میں مزدوری کرے گا۔ اتوار کے دن دونوں بھائیوں نے چرچ سے باہر نکل کر سکہ اچھالا۔ ایلبریچ ڈیورر جیت گیا اور اگلے دن نیورمبرگ کے لیے روانہ ہو گیا۔ ایلبریٹ بیچارہ کان کی طرف روانہ ہو گیا اور چار سال بڑی محنت اور تگ و دو کے ساتھ کانوں میں کام کر کر کے اپنے بھائی ایلبریچ کو پیسے بھیجتا رہا۔ ایلبریچ کا کام یونیورسٹی میں بے حد مقبول ہوا اور وہ شروع ہی سے بڑا اچھا آرٹسٹ بنا۔ اس کا لکڑی کا کام اور آئل پینٹنگز اپنے پروفیسروں سے بھی بہتر ہوتی تھیں۔ وہ اپنے کام سے کافی پیسے کمانے لگ گیا۔جوان آرٹسٹ جب گاؤں واپس لوٹا تو اس کے گھر والوں نے اس کے لیے ایک دعوت کا انتظام کر رکھا تھا۔

سب نے خوب مزے سے دعوت کی تب ایلبریچ کھڑا ہوا اور اپنے محسن بھائی ایلبریٹ کی جانب مڑا اور بولا کہ بھائی یہ سب تمہاری قربانی اور مستقل مزاجی کے زریعے ممکن ہوا ہے۔ اب تمہاری باری ہے تم نیورمبرگ جاؤ گے اور میں تمہارے لیے خرچ کا بندوبست کروں گا۔ سارے گھر والوں نے امید سے بھری نظروں کے ساتھ ایلبر یٹ کی طرف دیکھا۔ ایلبریٹ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ رنجیدہ ہو کر بولا: نہیں ۔۔۔نہیں۔۔نہیں! ایلبریچ اٹھا اور اپنے بھائی کے آنسو پونچنے لگا۔

ایلبریٹ بولا کہ بھائی بہت دیر ہو گئی میں اب آرٹسٹ نہیں بن سکتا۔ یہ دیکھو چار سال سونے کی کان میں کام کر کر کے میرے ہاتھوں کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ ہر انگلی کی ہڈی ایک نا ایک بار پھسی ہے اور حال ہی میں میرے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں آرتھرائٹس بھی رہا ہے۔ اس قدر شدید ہڈیوں کی بیماری تھی اس ہاتھ میں کہ میں گلاس بھی نہیں اٹھا سکتا۔ تو بھلا کسی کاغذ کے ٹکڑے پر پین یا برش سے کوئی پینٹنگ کیسے بناؤں گا۔ میرے لیے بہت دیر ہو گئی میرے پیارے بھائی۔آج اس واقعے کو ساڑھے چار سو سال بیت گئے ہیں اور ایلبریچ ڈیورر دنیا کے معروف ترین مصوروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور

اس کے کئی سو پورٹریٹ، پینٹنگز اور سکیچز دنیا کے مایہ ناز میوزیمز میں آویزاں ہیں مگر حیرت کی بات دیکھیں کہ اس کی سب سے معروف پینٹنگ :دی پرےئنگ ہینڈز ہے۔ یہ شاہکار پینٹنگ ایلبریچ ڈیورر نے اپنے بھائی ایلبریٹ کے محنتی ہاتھوں کے ایک سکیچ کی صورت میں بنائی تھی اور اس کا نام صرف ہینڈز رکھا تھا پر ساری دنیا نے دل کھول کر اس پینٹنگ کو سراہا اور اس کا نام دی پرےئنگ ہینڈز رکھ دیا۔ اگلی بار جب آپ گوگل پر سرچ کر کے اس پینٹنگ کو دیکھیں گے تو اس بات کو یاد رکھیے گا کہ کوئی بھی انسان اکیلا تن تنہا کامیابی کے راستوں پر گامزن نہیں ہوتا ہمیشہ اس کے پیچھے کوئی عظیم قربانی دینے والا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…