عظیم مفکر اور سائنس دان آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت میں ایک صدی گذر جانے کے بعد بھی ، جدید ترین آلات اور بڑے پیمانے پر وسائل کی دستابی کے باوجود ، دنیا بھر کے ماہرین معمولی سی ترمیم نہیں کرسکے اور اس کے نظریات کی سچائی آج بھی برقرارہے۔ کچھ عرصہ قبل دنیا کی سب سے بڑی اور مہنگی تجربہ گاہ میں دنیا بھر کے سائنس دانوں کی ایک بڑی ٹیم نے کئی برس کی تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے روشنی
سے بھی تیز رفتار ذرات دریافت کرلیے ہیں ، جس سے آئن سٹائن کا نظریہ باطل ہوگیا ہے ، مگر چند ہی ہفتوں کے بعد انہیں اپنا دعویٰ یہ کہتےہوئے واپس لینا پڑا کہ ان کے نتائج آلات میں تکینکی خرابی کے باعث درست نہیں تھے ۔ مشہور ریاضی دان اور سائنس دان البرٹ آئن سٹائن جب کہیں لیکچر دینے جاتے تو ان کا ڈرائیور ہال کے آخر میں بیٹھا لیکچر سنتا رہتا ۔ایک مرتبہ کسی یونیورسٹی میں لیکچر دینے کیلئے جب گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے کہاجناب! میں آپ کے لیکچر سْن سْن کر تنگ آ گیا ہوں۔۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے آپ کے تمام لیکچر یاد ہو گئے ہیں۔ یہ سْن کر آئین سٹائن نے کہا۔ٹھیک ہے آج جس یونیورسٹی میں میرا لیکچر ہے اتفاق سے وہ مجھے جانتے بھی نہیں لہذا آج میری جگہ لیکچر دے دو۔۔۔مزید اصرار کرنے پر ڈرائیور مان گیا۔ یوں ڈرائیور آئن سٹائن اور اصلی آئن سٹائن ڈرائیور بن بیٹھا۔ڈرائیور نے یونیورسٹی میں بہت ہی عمدہ طریقے سے لیکچر دیا۔ لیکچر دینے کے بعد ایک شخص نے نقلی آئن سٹائن سے پوچھا “۔جناب! آپ نے لیکچر میں ریاضی کا جو فلاں فارمولہ بتایا ہے، وہ مجھے صحیح طرح سمجھ نہیں لہذا وضاحت کر دیں”۔نقلی آئن سٹائن نے کہا “جناب! یہ فارمولہ تو اتنا آسان ہے کہ میرا ڈرائیور بھی آپکو سمجھا دے گا”۔یہ کہہ کر اْس نے ڈرائیور کو آواز دی اور کہا کہ ان صاحب کو فلاں فارمولہ سمجھا دو۔



















































