ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

اہل محبت آزمائے بھی جاتے ہیں

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ان کی شادی ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کو حسن و جمال بھی عجیب دیا تھا اور شادی بھی ایک بڑے امیر کبیر صحابیؓ سے ہوئی کہ جن کے پاس رزق کی فراخی تھی‘ہر طرح کی عیش و آرام کے سامان تھے‘ میاں بیوی میں خوب محبت تھی اور اچھا وقت گزر رہا تھا۔ ایک رات خاوند سو چکا تھا و پانی کا پیالہ لے کر کھڑی رہی حتیٰ کہ جب ان کی دوبارہ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بیوی پانی لے کر کھڑی ہے

وہ بڑے خوش ہوئے انہوں نے اٹھ کر پانی پیا اور بیوی سے کہا میں اتنا خوش ہوں کہ تم اتنی دیر پانی کا پیالہ لے کر میرے انتظار میں کھڑی رہی آج تم جو کہو گی میں تمہاری فرمائش پورا کروں گا۔ کہنے لگی کہ اچھا پھر آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کر دیجئے۔ اب جب طلاق کی بات ہوئی تو صحابیؓ بہت پریشان ہوئے اور پوچھنے لگے کہ کیا تجھے مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہے؟ کوئی بات پوری نہیں کی؟ مگر ہر بات کا جواب نہیں میں تھا کہنے لگی میں آپ کو پسند بھی کرتی ہوں‘ محبت بھی کرتی ہوں اس لئے خدمت کرتی ہوں آپ نے کہا تھا کہ میں آپ کی بات کو پورا کروں گا لہٰذا آپ مجھے طلاق دے کر فارغ کر دیں۔ وہ صحابیؓ حیران ہیں کہ قول بھی دے بیٹھے کہنے لگے اچھا صبح ہو گی تو ہم نبی علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے اور آپؐ سے جا کر فیصلہ کروا لیں گے وہ کہنے لگی بہت اچھا چنانچہ میاں بیوی رات کو سو گئے۔
صبح ہوئی تو بیوی کہنے لگی کہ چلو جلدی چلتے ہیں چنانچہ دونوں میاں بیوی گھر سے نکلے تھے کہ خاوند کا کسی وجہ سے پاؤں اٹکا اور وہ نیچے گرا اور اس کے جسم سے خون نکلنے لگا‘ بیوی نے فوراًً اپنا دوپٹہ پھاڑا اور خاوند کے زخم پر پٹی باندھی اور اسکے بعد اس کو سہارا دیا اور کہنے لگی کہ چلو گھر واپس چلتے ہیں۔

میں آپ سے طلاق نہیں لیتی‘ وہ حیران ہوئے کہ جب تم نے طلاق کا مطالبہ کیا تو نہ مجھے اس وقت سمجھ آیا اور اب کہتی ہوں کہ طلاق نہیں چاہئے تو نہ اب مجھے سمجھ میں آ سکا۔ کہنے لگی آپ نے چند دن پہلے نبی علیہ السلام کی حدیث سنائی تھی کہ جس بندے سے اللہ رب العزت محبت کرتے ہیں اس بندے کے اوپر اس طرح پریشانیاں آتی ہیں جس طرح پانی اونچائی سے ڈھلوان کی طرف جایا کرتا ہے۔ میں نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان سنا میں تو میں دل میں سوچتی رہی کہ میں نے آپ کے گھر میں کوئی پریشانی نہیں دیکھی‘ کوئی غم نہیں دیکھا‘ کوئی مصیبت نہیں دیکھی تو میرے دل میں خیال آیا کہ میرے آقا کی بات سچی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ میرے خاوند کے ایمان میں فرق ہو‘ اعمال میں فرق ہو‘ میرے خاوند سے اگر پروردگار محبت نہیں کرتا تو میں اس بندے کی کیا خدمت کروں گی‘ اس لئے جب آپ نے کہا کہ میں تمہاری بات پوری کروں گا تو میں نے کہا کہ طلاق چاہتی ہوں۔ پھر جب ہم حضورﷺ کی خدمت میں علم حاصل کرنے کیلئے جا رہے تھے یہ اللہ کا راستہ تھا آپ گرے اور خون نکلا تو میں فوراً سمجھ گئی کہ آپ کو اللہ کے راستہ کا غم پہنچا‘ مصیبت پہنچی‘ تکلیف پہنچی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کو آپ سے پیار ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی ناراضگی کی وجہ سے خوشیاں نہیں دی ہوئیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو آپ سے محبت ہے اس لئے میں ساری زندگی آپ کی خادمہ بن کر آپ کی خدمت کیا کروں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…