ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا شخص آیا اور کہنے لگا واؤ اووین؟ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علی نے فرمایا‘ واوین‘ وہ کہنے لگا لا ولا‘ کہہ کر چلا گیا‘ شرکاء مجلس کے پلے کچھ نہ پڑا‘ حالانکہ ان کا علمی مرتبہ بہت بلند تھا ان میں امام ابویوسف جیسے کثیر الحدیث محدث تھے۔ قاسم بن معن رحمتہ اللہ علیہ اور محمد بن حسن رحمتہ اللہ علیہ جیسے عربی ادب کے ماہر‘
امام زفر رحمتہ اللہ علیہ عافیہ بن یزید رحمتہ اللہ علیہ جیسے قیاس اور استحسان کے بادشاہ تھے اور امام داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ جیسے زہد و تقویٰ کے پہاڑ تھے‘ مگر اشاروں کی یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی‘ بالآخر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ اس بوڑھے نے کیا پوچھا تھا؟ آپ نے فرمایا اس نے التحیات کے بارے میں سوال کیا تھا کہ ’’التحیات للہ والصلوات والطیبات‘‘ میں دو واؤ ہیں وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ میں دو واؤ والا التحیات پڑھوں یا ایک واؤ والا‘ تو میں نے کہا ’’واویں‘‘ یعنی دو واؤ والا اس نے خوش ہو کر کہا کہ واقعی آپ کا علم شجرہ طیبہ کی طرح ہے۔ پھر کہنے لگا اور لا ولا کہہ کر اشارہ کر دیا کہ آپ کے علم کی مثال نہ مشرق میں ہے اور نہ مغرب میں ہے۔
(2 امام اعظم ایک مرتبہ درس دے رہے تھے کہ ایک عورت آئی جو کہ کوئی مسئلہ پوچھنا چاہتی تھی مگر مردوں کی وجہ سے شرما گئی اور ایک بچے کے ہاتھ سیب بھیج دیا‘ جس کا کچھ حصہ سرخ تھا اور کچھ زرد‘ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے سیب کاٹ کر واپس دے دیا تو وہ عورت چلی گئی۔ لوگوں نے ماجرا پوچھا فرمایا‘
وہ عورت حیض کا مسئلہ پوچھنے آئی تھی مگر تمہاری وج ہسے شرم و حیا مانع ہوئی اس لئے الفاظ میں مسئلہ پوچھنے کی بجائے سیب پیش کر دیا کہ کیا عورت کے حیض کے خون کی رنگت زرد ہو جائے تو غسل کر سکتی ہے یا نہیں؟ میں نے سیب کاٹ کر سفیدی دکھا کہ جب تک زردی سفیدی میں نہ بدلے اس وقت تک غسل نہیں کر سکتی ان باتوں کو کون سمجھے؟ ایسے حضرات کے حاسدین بھی زیادہ ہوتے ہیں جتنا کوئی بڑا ہو گا اس کے حاسدین بھی اتنے زیادہ ہوں گے۔
فقہا کی ذہن رسائی
سلیمان بن مہران جو رجان بخاری سے ہیں انہوں نے ایک مرتبہ امام ابویوسف رحمتہ اللہ علیہ سے مسئلہ پوچھا جو انہوں نے بتا دیا۔ سلیمان بن مہران بہت حیران ہوئے کہ آپ نے کہاں سے سیکھا‘ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے کہا حضرت! آپ ہی سے تو میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ کہنے لگے تیرے ماں اور باپ ابھی ایک بستر پر جمع بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس وقت سے مجھے یہ فرمایاکہ ہم تو میڈیکل سٹور والوں کے مانند ہیں اور تم اطباء کی مانند ہو ہم نے یہ سب احادیث پرکھ کر اپنے پاس اکٹھی کر رکھی ہیں مگر کس میں سے کون سا فائدہ لینا ہے تو یہ کام تم لوگ بہتر جانتے ہو۔



















































