علمائے کرام میں بعض نے بہت ہی کم عمری میں علم کے جام پہ جام پئے‘ حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ بن چکے تھے۔ اس عمر میں انہوں نے درس قرآن دینا شروع کر دیا تھا‘ یہ وہ وقت تھا جب سفید بالوں والے بڑے بڑے مشائخ ان کے حلقہ درس میں بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ درس قرآن دے رہے تھے‘
اسی دوران دو چڑیاں لڑتی ہوئی ان کے قریب آ کر گریں یہ کم عمر تو تھے ہی سہی انہوں نے اپنا عمامہ اتارا اور ان چڑیوں کے اوپر رکھ دیا‘ اب درس قرآن کے درمیان جو یہ کام کیا تو جو مشائخ بیٹھے تھے انہوں نے اس چیز کو mind (محسوس) کیا کہ یہ ادب کے خلاف ہے چنانچہ انہوں نے عمامہ اپنے سر پر رکھا اور یہ فرمایا کہ بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے چاہے کسی نبی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو پھر ان مشائخ کی تشفی ہو گئی کہ ہاں کم عمری کی وجہ سے ایسی باتیں ہو سکتی ہیں۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے علم و اخلاص کے بے پایاں فیض
سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس علم‘ عمل اور اخلاص سے ملنے والی قوت اور طاقت موجود تھی‘ اور اسی قوت اور طاقت کی وجہ سے اللہ رب العزت نے دنیا کے فرمانرواؤں اور بادشاہوں کے تاج ان کے قدموں میں لا کر ڈال دیئے‘ فقیرانہ زندگی تھی لیکن وقت کے بڑے بڑے سپرپاور والے بادشاہ قیصر اور کسریٰ بھی تھرایا کرتے تھے‘ نام سن کر کانپتے تھے‘ لرزہ براندام ہو جاتے تھے اس لئے کہ ان کے پاس علم‘ عمل اور اخلاص کی قوت موجود تھی۔
یک مرتبہ حضرت عمرؓ منبر پر کھڑے ہیں اور اس وقت کہہ رہے ہیں ’’اے ساریہ! پہاڑ کی طرف سے دھیان رکھنا‘‘ ہوا ان کو پیغام کو زبان سے لے کر ان کے امیر لشکر تک پہنچا دیتی ہے یہ ان کا ہوا پر حکم چل رہا ہے۔



















































