حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں ان پر جب نزع کا وقت آیا تو ساتھیوں سے فرمایا مجھے وضو کرا دیں۔ ساتھیوں نے بڑی مشکل سے آپ کو وضو کرایا۔ کیونکہ بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکے تھے۔ وضو کے بعد خیال آیا کہ مجھ سے تو خلال رہ گیا ہے وہ بھی سنت! انتہائی پریشان ہوئے لہٰذا فرمایا مجھے دوبارہ وضو کرائیں تو ساتھیوں نے کہا کہ حضرت آپ تو معذور ہیں‘
بیمار ہیں حرکت سے تکلیف ہوتی ہے اس لئے رہنے دیں لیکن حضرت نے فرمایا مجھ پر سکرات موت طاری ہے عنقریب میں حضوؐر سے ملوں گاتو میں یہ نہیں چاہتا کہ ایسے وضو سے چلا جاؤں جس میں آپؐ کی کوئی سنت چھوٹی ہوئی ہو‘ یہ ہوتا ہے سچا عشق۔
کراٹے کلب میں اللہ‘ اللہ
ملتان شہر میں کوئی کراٹے کا کھلاڑی تھا بلیک بیلٹ وہ بیعت ہوا وہ بھی کوئی عجیب ہی شے تھی کہنے لگا حضرت میں نے بہت محنت کی ہے ہم نے کہا وہ کیسے‘ کہنے لگا جی میں آپ کو دکھاتا ہوں وہ لیٹ گئے اور اس کے پیٹ کے اوپر ایک دو من کے بندے نے دس مرتبہ چھلانگیں لگائیں اور وہ آرم سے نیچے پڑا رہا۔ پیٹ کے اوپر دو من کا بندہ دو فٹ اچھل کر چھلانگ لگا رہا ہے اور وہ آرام سے پڑا ہوا ہے پھر کہنے لگا جی میں یہ بھی کر سکتا ہوں اور یہ بھی کر سکتا ہوں کچھ عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی پوچھا کہ بھئی کیا حال ہے کہنے لگا کہ حضرت میرا کلب پورے شہر کے اندر کراٹے میں سب سے بڑا ہے اور میں نے کالج کی لڑکیوں کو بھی کراٹے سکھانے کیلئے ایک برانچ کھولی ہوئی تھی۔
بیعت ہونے کے بعد گیا تو اس برانچ کو تو میں نے بالکل بند کر دیا۔ یہ پہلی بات ہوئی‘ دوسری بات یہ کہ میں نے اپنے بچوں کو سمجھایا کہ بھئی ہم جو ایک دوسرے پر اٹیک کرتے ہیں اور زبان سے ایک بے معنی سا لفظ نکالتے ہیں تو اس کی بجائے ہم اللہ کا لفظ کیوں نہ نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے چنانچہ میں نے کہا کہ تم نے اب فائٹ کرنی ہے‘ اٹیک کرنا ہے تو اللہ کے لفظ سے اٹیک کرنا ہے۔ کہنے لگا کہ جب ہم نے اللہ اللہ سے اٹیک کرنا شروع کیا تو باہر سے گزرنے والے لوگ سمجھنے لگے کہ اندر محفل ذکر ہو رہی ہے۔ لوگ دروازے پر جمع ہو کر کہنے لگے کہ ہم بھی محفل ذکر میں آنا چاہتے ہیں ان کو پتہ چلا کہ جناب یہاں تو کراٹے سکھائے جاتے ہیں۔ بیوی تو بہت پریشان تھی کہ لڑکیوں کی کلاس بند ہو گئی اب آمدنی کم ہو جائے گی لیکن جب نیک لوگوں نے دیکھا کہ یہ نیک آدمی ہے ہمارے بچے بھی اس سے سیکھ سکھتے ہیں تو انہوں نے اپنے بچے بھی بھیجنا شروع کر دیئے۔ یوں لڑکیوں کی کلاس کی تلافی ہو گئی۔ چنانچہ ہمارے لڑکوں کی تعداد پہلے سے تین گنا ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے رزق میں بھی اضافہ کر دیا۔ اب دیکھئے کہ دل میں محبت الٰہی آئی تو پھر ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کود میں بھی اللہ یاد آئے گا۔



















































