حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے ایک مرتبہ کہہ دیا حضرت! حاجی صاحب کو اللہ نے اس لئے بڑی شان عطا فرمائی کہ آپ جیسے بڑے بڑے علماء ان سے بیعت تھے۔ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ یہ سنت کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا تمہاری عقل الٹی ہے اور تم نے الٹی بات کہہ دی ہے‘
ارے! حاجی صاحب کی شان ہماری وجہ سے نہیں بڑھی بلکہ حاجی صاحب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کی شان بڑھا دی ہے ورنہ قاسم کو کون پوچھتا اوررشید احمد گنگوہی کو کون پوچھتا یہ حاجی صاحب کی نسبت تھی جس کی وجہ سے اللہ نے ان کو شان عطا فرما دی۔
اہل اللہ کے دلوں کی قدرو قیمت کیوں؟
ایک مرتبہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے دہلی کی جامع مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا‘ او مغل بادشاہو! تمہارے خزانے ہیرے اور موتیوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ولی اللہ کے سینے میں ایسا دل ہے کہ تمہارے سارے خزانے مل کر بھی اس کے دل کی قیمت نہیں بن سکتے‘ اس لئے کہ اس کے دل میں اللہ سمایا ہوا ہے اس کے دل میں اللہ آیا ہوا ہے بلکہ اس کے دل میں اللہ چھایا ہوا ہے۔
تین گھنٹوں کی نیند تین منٹ میں
ہمارے حضرت مرشد عالم رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ ایک دفعہ میں بہت تھکا ہوا تھا‘ کئی دن سے مسلسل کام کر رہا تھا‘ مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا تھکاوٹ اتنی غالب تھی کہ میں عاجز آ گیا اور میں نے اپنے
دوستوں سے کہا کہ بس آپ سب لوگ یہاں سے چلے جائیں‘ وہ کہنے لگے کہ حضرت! نماز میں بس دس پندرہ منٹ باقی ہیں آپ بعد میں سوجانا میں نے کہا کہ بس آپ جائیں میں نے ان سب کو کمرے سے باہر نکال دیا‘فرماتے ہیں کہ میں نے کنڈی لگا دی اور آ کر بستر پر سو گیا‘ میں سوتا رہا سوتا رہا حتیٰ کہ میری نیند پوری ہو گئی‘ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے ہم ہی سلاتے ہیں اور ہم ہی جگاتے ہیں اس بات کو سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فرماتے ہیں کہ میری طبیعت تازہ دم تھی میں نے کہا اچھا اٹھ کر وضو کرتا ہوں اور نماز پڑھتا ہوں جب میں اٹھا اور کنڈی کھولی تو دیکھا کہ جن لوگوں کو باہر نکالا تھا وہ دروازے پر ہی کھڑے تھے دروازہ کھولا باہر نکلا تو وہ کہنے لگے کہ حضرت! آپ نے سونے کا ارادہ ترک کر دیا‘ میں نے کہا نہیں میری نیند پوری ہو گئی اوپر انہوں نے گھڑی دیکھی اور کہنے لگا کہ ابھی ہمیں کمرے سے نکلے صرف تین منٹ ہی گزرے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو تین منٹ میں اتنا سکون دے دیتا ہے کہ گویا ان کو تین گھنٹے کی نیند نصیب ہو گئی اور ہم ساری رات بھی سو کر تازہ دم نہیں ہوتے۔



















































