شاہ اسماعیل شہید ؒ نے ایک مرتبہ سو رکعتیں صرف اس لئے پڑھیں تاکہ ماسوی اللہ کے خیال کے اللہ کی نماز ادا کر سکیں مگر انہیں ہر دفعہ کوئی نہ کوئی خیال آجاتا۔ سو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بڑے متفکر ہوئے کہ میں نے سو نفل بھی پڑھے اور میں ایک دوگانہ بھی ایسا نہ پڑھ سکا جس میں باہر کا کوئی خیال نہ آیا ہو۔
چنانچہ سید احمد شہید کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا حضرت! میں نے سو رکعتیں اس نیت سے پڑھیں کہ مجھے کم از کم ایک دوگانہ ایسا نصیب ہو جائے جس میں کسی غیر کے بارے میں کوئی خیال نہ آئے مگر مجھے ہر دفعہ کوئی نہ کوئی خیال آتا رہا‘ اب میں پریشان ہوں کہ میری نماز کیسے بنے گی۔ شاہ صاحب نے فرمایا! اچھا تم تہجد میں ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھ لینا۔ چنانچہ شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ نے سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ کے مصلیٰ کے قریب آ کر تہجد کی نیت باندھ لی ان کی صحبت کا یہ اثر تھا کہ ابھی پہلی رکعت کا سجدہ ادا نہیں کیا تھا کہ ان کی طبیعت میں رقت پیدا ہو گئی پھر وہ اتنا روئے کہ ان کیلئے نماز کا سلام پھیرنا مشکل ہو گیا‘ سو رکعتیں اپنے طور پر پڑھیں تو کچھ نہ بنا او رشیخ کے پاس آ کر دو رکعت کی نیت باندھی تو ایسا گریہ طاری ہوا کہ سلام پھیرنا مشکل ہو گیا تو یہ حضرات زندگی کے اعمال کوبنانا سکھاتے ہیں۔
شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک آدمی آیا‘ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے اسے ایک دن اپنے پاس رکھا توجیہات دیں اور دوسرے دن اس کو اجازت و خلافت دے دی‘ جو لوگ سالہا سال سے رہ رہے تھے وہ کہنے لگے حضرت! ہم تو آپکی خدمت میں کئی کئی سالوں سے موجود ہیں لیکن آپ کی مہربانی اس پر ہو گئی‘ حضرت نے فرمایا: ہاں وہ اپنے تیل اور بتی کو ٹھیک کر کے آیا تھا‘ میں نے تو فقط اس کے چراغ کو روشن کیا ہے‘ آج کل کے سالک تو ایسے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ تیل بھی پیر ڈالے بتی بھی پیر لائے‘ ہمارا یہ احسان کافی ہے کہ ہم نے بیعت کر لی ہے۔



















































