حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے ہمیں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا‘ میرے پاس کافی مال تھا میں نے سوچا آج میں ابوبکرصدیقؓ سے سبقت لے جاؤں گا چنانچہ میں نے آدھا مال صدقہ کیا‘ نبی علیہ السلام نے پوچھا اہل خانہ کیلئے کیا چھوڑا میں نے عرض کیا‘ مثلہ (اس کے برابر) اتنے میں ابوبکرؓ بھی اپنا مال لے کر آئے‘ نبلی علیہ السلام نے پوچھا! اہل خانہ کیلئے کیا چھوڑا عرض کیا اللہ اور اس کے رسولؐ کو۔
یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا ’’میں تمہارے ساتھ کسی چیز میں مقابلہ نہ کروں گا‘‘۔
عشق نے مشقت میں حلاوت پیدا کر دی
ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے ابوبکرؓ کو پھٹے کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو فرمایا ابوبکرؓ تم ایک وقت کتنے خوشحال تھے۔ اب تمہیں دین کی وجہ سے کتنی مشتقیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ ایک دم تڑپ کر بولے۔’’اگر ساری زدگی اسی مشقت میں گزاروں اور شدید عذاب میں مبتلا ہوں پھر بھی دوست کی دوستی میں جو وسعت اور کشادگی ہے وہ حاصل نہیں ہوتی‘‘۔ (عشق رسول ص66)
گرقبول افتذ ہے نصیب
حضرت ابوبکرؓ ایک مرتبہ اپنے گھر میں رو رو کر دعا مانگ رہے تھے جب فارغ ہوئے تو اہل خانہ سے پوچھا کہ کیا وجہ تھی فرمایا کہ میرے پاس کچھ مال ہے جو میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں مگر دینے وال کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے‘ لینے والے کانیچے ہوتا ہے‘ میں اپنے آقاﷺ کی اتنی بے ادبی بھی نہیں کرنا چاہتا اس لئے رب کائنات سے رو رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ اے اللہ میرے محبوبﷺ کے دل میں یہ بات ڈال دے کہ وہ ابوبکرؓ کے مال کو اپنا مال سمجھ کر خرچ کریں۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ نبی علیہ السلام ابوبکرؓ کے مال کو اپنے مال کی طرح خرچ کرتے تھے۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ’’بیشک لوگوں میں سب سے بڑا محسن خدمت اور مال کے اعتبار سے ابوبکرؓ ہے‘‘۔ (عشق رسول ص66)



















































