ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

عشق و محبت کے چند بکھرے موتی

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

جب نبی علیہ السلام مرض الوفات کی حالت میں تھے تو حضرت ابوبکرؓ نماز کی امامت کرواتے تھے ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ نبی علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓ فوراً پیچھے ہٹے‘ نماز سے فراغت پر نبی علیہ السلام نے فرمایا ’’ابوبکرؓ! میں خود تمہیں حکم کر چکا تھا تو تم کو اپنی جگہ پر کھڑے رہنے سے کون سی چیز مانع تھی عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ابوقحافہ کا بیٹا اس لائق نہیں کہ رسول اللہﷺ کے آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔

جب نبی علیہ السلام نے دنیا سے پردہ فرما لیا تو صحابہ کرامؓ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جس نے کہا کہ نبی علیہ السلام فوت ہو گئے ہی اس کا سر قلم کر دوں گا۔ جب حضرت ابوبکرصدیقؓ کو پتہ چلا تو آپؓ تشریف لائے۔ بخاری شریف میں ہے ترجمہ ’’پس ابوبکرؓ آئے اور نبی علیہ السلام کے چہرے سے چادر ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا آپؐ پر میرے ماں باپ قربان‘ آپ نے زندگی بھی پاکیزہ گزاری اور پاکیزگی سے ہی خالق کو جا ملے‘‘۔ سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کو بعض قرائن سے پتہ چل چکا تھا کہ اب محبوب سے جدائی ہونے والی ہے اس لئے جب سورۃ النصر نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ خوش ہوئے مگر عاشق زار ابوبکرصدیقؓ دل گرفتہ ہو کر مسجد کے کونے میں رونے بیٹھ گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے کہا کہ لوگ فوج در فوج داخل ہوں گے تو یہ پیغام خوشی کا ہے۔ فرمایا: ہاں لیکن جب کام مکمل ہو گیا تو محبوبﷺ بھی تو اپنے محبوب حقیقی سے جاملیں گے میں جدائی کے تصور سے بیٹھا رو رہا ہوں۔

جب فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکرصدیقؓ کے والد حضرت ابوقحافہ ایمان لائے تو نبی علیہ السلام نے بہت خوشی کا اطہار فرمایا اس پر عاشق صادق نے کہا ’’قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ ان کے اسلام کی نسبت مجھے آپ کے چچا ابوطالب کے اسلام لانے کی خوشی زیادہ ہوتی۔ (الاصابہ
حضرت ابوبکرصدیقؓ عشق رسولﷺ میں اتنا کمال حاصل کر چکے تھے کہ اب ان کو اپنے محبوب کی شان میں ذرا سی گستاخی بھی برداشت نہ تھی۔ چنانچہ ایمان لانے سے پہلے ایک مرتبہ ان کے والد نے نبی علیہ السلام کی شان میں کوئی نازیبا بات کر دی تو حضرت ابوبکرؓ نے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔ ایک مرتبہ ابوجہل نے نبی علیہ السلام کی شان میں کوئی گستاخی کی تو ابوبکرؓ شیر کی طرح اس پرجھپٹے اور فرمایا ’’تو دفع ہو جا اور جا کر لات و منات کی شرمگاہ کو چاٹ‘‘ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ عشق مصلحت اندیش نہیں ہوا کرتا۔
جب نبی علیہ السلام نے پردہ فرما لیا تو اطراف مدینہ کے بعض قبائل دین اسلام سے پھر گئے۔ سیاسی حالات نے سنگینی اختیار کر لی۔ اکثر صحابہؓ کی رائے تھی کہ لشکر اسامہ کو واپس بلا لیا جائے جس کو نبی علیہ السلام قیصر روم کے مقابلے میں روانہ کر چکے تھے

لیکن حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ ابوبکرؓ سے ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اس لشکر کو واپس کرے جب اللہ کے محبوبﷺ نے آگے بھیجا میں اس لشکر کو واپس ہرگز نہیں بلاؤں گا اگرچہ مجھے یقین ہو کہ کتنے ہماری ٹانگیں کھینچ کر لے جائیں گے‘‘۔ عشق کا فیصلہ عقل کے فیصلے سے متصادم تھا لیکن دنیا نے دیکھا کہ خیر اسی میں تھی سازشیں خود بخود دم توڑ گئیں‘ دشمنوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ سیاسی حالات کی کایا پلٹ گئی۔ عشق ایک مرتبہ پھر جیت گیا۔
حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اپنی وفات سے چند گھنٹے پیشتر سیدہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی علیہ السلام کی وفات کس دن ہوئی اور کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔‘ مقصد یہ تھا کہ مجھے بھی یوم وفات اور کفن دفن میں نبی علیہ السلام کی موافقت نصیب ہو۔
حضرت ابوبکرؓ نے وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ جب میرا جنازہ تیار ہو جائے تو روضہ اقدس کے دروازے پر لے جا کر رکھ دینا اگر دروازہ کھل جائے تو وہاں دفن کر دیں ورنہ جنت البقیع میں دفن کرنا چنانچہ جب آپ کا جنازہ دروازے پر رکھا گیا تو ’’تالہ کھل گیا اور دروازہ بھی کھل گیا‘‘ اور ایک آواز صحابہ کرامؓ نے سنی ’’ایک دوست کو دوسرے دوست کی طرف لے آؤ‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…