جب صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمانؓ کو نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا گیا تو قریش مکہ نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جب صحابہ کرامؓ کو پتہ چلا تو بہت افسردہ ہوئے بعض نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کر کے آئیں گے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ’’ کہ عثمانؓ میرے بغیر طواف نہیں کریں گے‘ حضرت عثمانؓ واپس آئے تو صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا آپؓ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیا۔
انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے طواف کرنے کیلئے قریش اصرار کرتے رہے مگر میں وہاں ایک سال بھی مقیم رہتا تو بھی نبی علیہ السلام کے بغیر طواف نہ کرتا۔
ایک مرتبہ حضرت عثمانؓ جب نبی علیہ السلام‘ حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کے ہمراہ ان کے گھر کی طرف چلے تو حضرت عثمانؓ سارا راستہ نبی علیہ السلام کے قدم مبارک کی طرف دیکھتے رہے۔ صحابہ کرامؓ نے جب یہ بات نبی علیہ السلام کو بتائی تو آپؐ نے حضرت عثمانؓ سے اس کی وجہ دریافت کی۔ عرض کیا اے اللہ کے محبوب آج میرے گھر میں اتنی مقدس ہستی آئی ہے کہ میری خوشی کی انتہاء نہیں‘ میں نے نیت کی تھی کہ آپؐ جتنے قدم اپنے گھر سے چل کر یہاں آئیں گے میں اتنے غلام اللہ کے راستے میں آزاد کروں گا۔



















































