ایک دفعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آرام فرما رہی تھیں‘ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے‘ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ آسمان پر جتنے ستارے ہیں اتنی نیکیاں بھی کسی کی ہوں گی؟ انہوں نے یہی سوال نبی علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر بھی ہوں گی۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا! ہاں عمرؓ کی ہوں گی‘
یہ سن کر حضرت عائشہؓ خاموش ہو گئیں پھر تھوڑی دیر کے بعد نبی علیہ السلام نے خود پوچھا‘ عائشہ رضی اللہ عنہا تم سوچ رہی ہو گی کہ میرے والد کا نام نہیں لیا‘ کہنے لگیں جی ہاں بالکل یہی سوچ رہی تھی‘ فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا! ان کی بات کیا سوچتی ہو ان کی تو غارثور میں گزری ہوئی ایک رات کی نیکیاں آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔ سبحان اللہ
تین رات کامقام
حضرت عمرؓ اپنی زندگی میں حضرت ابوبکرؓ سے کہا کرتے تھے آپ میری ساری زندگی کی نیکیاں لے لیجئے اور مجھے غار ثور والی تین راتوں کی نیکیاں دے دیجئے‘ کیونکہ مجھے ان تین راتوں کی نیکیاں اپنی ساری زندگی کی نیکیوں سے زیادہ نظر آتی ہیں‘ عشق و محبت نے ان کی نیکیوں کو کس قدر قیمتی بنا دیا تھا
حضرت ام حبیبہؓ کا عشق رسولﷺ
ام المومنین سیدہ ام حبیبہؓ اپنے گھر میں موجود تھیں کہ آپ کے والد جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے کسی کام کیلئے مدینہ طیبہ آئے سوچا کہ چلو میں اپنی بیٹی کو ملتا جاؤں ان کے گھر آئے جب بیٹھنے لگے تو چارپائی کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا‘ سیدہ ام حبیبہؓ نے دوڑ کر بستر کو جلدی سے لپیٹ دیا‘ کہنے لگی‘ آپ میرے والد ہیں اس میں یقیناً کوئی شک نہیں آپ جانتے ہیں کہ یہ بستر اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبرﷺ کا ہے اس لئے میں کسی کافر اور مشرک کا اس بستر پر بیٹھنا گوارہ نہیں کر سکتی۔



















































