ہجرت کے موقع سے غار حرا میں حضرت اسماءؓ نبی علیہ السلام کو پہلے دن کھانا پہنچا آئیں۔ جب دوسرے دن پہنچانے کیلئے گئیں تو روایت میں آتا ہے کہ ان کے ماتھے پر زخم تھا اور کچھ مغموم سی تھیں۔ نبی علیہ السلام نے دیکھا تو پوچھا اسماء آج مجھے تم پریشان اور غم زدہ نظر آتی ہو‘ جب آپؐ نے پوچھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو آ گئے‘ عرض کیا۔ اے اللہ کے محبوبﷺ! کل جب میں آپؐ کو کھانا دے کر واپس گئی تو
راستہ میں ابوجہل مل گیا اس نے مجھے پکڑ لیا‘ کہنے لگا ابوبکر کی بیٹی! تجھے پتہ ہو گا کہ تیرے والد کہاں ہیں اور تمہارے پیغمبر کہاں ہیں؟ میں نے جواب میں کہہ دیا کہ ہاں مجھے پتہ ہے‘ وہ کہنے لگا مجھے بتاؤ‘ میں نے کہامیں نہیں بتاؤں گی‘ اس نے مجھے دھمکایا‘ ڈرایا اور کہنے لگا کہ اگر تم نہیں بتاؤ گی تو میں تمہیں بہت ماروں گا‘ سخت سزا دوں گا میں نے کہا میں ہرگز نہیں بتاؤں گی۔ اے اللہ کے محبوبﷺ اس نے مجھے ایک دم زور دار تھپڑ لگایا تو میں نیچے گری‘ پتھر پر میری پیشانی لگی‘ اس میں سے خون نکل آیا اور میری آنکھوں میں سے آنسو۔ پھر اس نے مجھے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور کہا کہ بتا ورنہ تجھے اور ماروں گا۔ اے اللہ کے نبیﷺ میں نے اسے کہا‘ ابوجہل میری جان تو تیرے حوالے مگر میں محمد عربیﷺ کو تیرے حوالے نہیں کروں گی۔ یہ ہے خواتین اسلام کی محبت و وفا کی مثال۔
شاعر رسولﷺ کے عشق بھرے اشعار
حضرت حسان بن ثابتؓ کو شاعر رسولﷺ ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ عالم عشق و مستی میں نبی اکرمﷺ کو دیکھتے تو آپؐ کی تعریف میں اشعار لکھتے تھے۔
اے رسول اللہﷺ! آپؐ اتنے حسین و جمیل ہیں کہ کسی آنکھ نے ایسا دیکھا ہی نہیں‘ ایسا خوبصورت بیٹا کسی ماں نے جنا ہی نہیں‘ آپؐ تو ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ جیسے آپؐ کی مرضی کے مطابق پیدا کیا گیا ہو۔



















































