منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

شیمپو کے ایسے حیران کن کمالات جو آپ کی زندگی بدل دیں

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شیمپو کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا بلکہ روزمرہ میں بال دھونے کیلئے استعمال بھی کیا ہوگا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بالوں کی چمک بڑھانے کیساتھ یہ سلوشن کیا کچھ کرسکتاہے؟
لیدر کے جوتوں اور پرس کو نئی زندگی دیں:
اپنے چمڑے یا لیدر کے جوتوں اور پرس کی نئی زندگی کیلئے مہنگے سلوشنز خریدنے کی ضرورت نہیں کچھ مقدار میں شیمپواور ایک صاف کپڑا یہ کام کر سکتے ہیں۔شیمپو کو جوتوں کے خراب حصوں پر لگا کرکپڑے سے رگڑیں تو اس کی صفائی کیساتھ اسکی رنگت میںبھی نئی جان آجائیگی اور یہ آپ کے جوتوںکو نمک کے داغوں سے بھی تحفظ دیگا۔
منجمد زپ کو ٹھیک کریں:
اگر تو آپ کی زپ کسی جگہ پھنس گئی ہے تو اس پر زورلگا کر اسکے توڑنے کے بجائے روئی لیکر اس پر تھوڑاسا شیمپو لگائیں ۔شیمپو زپ کو آسانی سے حرکت کرنے میں مدد کریگااور زپ میں پھنس جانے والا کچرا بھی اگلی دھلائی میں نکل آئے گا۔
گاڑی کی صفائی:
شیمپو میں چکنائی کاٹنے کی طاقت گاڑی پر بھی کام کرتی ہے۔ایک چوتھائی کپ شیمپو کو پانی کی ایک بالٹی میں ملائیں اور اس سے گاڑی کو صاف کر لیں۔
پیروں میں نئی جان ڈالیں:
اپنے پیروں میں رات کو سوتے وقت شیمپو کی کچھ مقدار سے مالش کریں اور کاٹن کی جرابیں چڑالیں ۔صبح جب آپ اٹھیں گے تو پیر ہموار اور ریشمی محسوس ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…