بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ، روس، آزذر بائیجان اور دیگر ممالک کے بعدکس عرب ملک نے شمولیت کی خواہش کر دی؟

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مصر نے پاک چین اقتصادی راہداری میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ مصر کی اس تجویزسے اس اقتصادی راہداری کے معاشی ثمرات افریقہ ، یورپ اور مشرق وسطی تک پہنچیں گے ۔ سپیکر نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے اُمت مسلمہ کو یکجاکرنے کے لیے ’’ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر ‘‘

کا جو نظریہ پیش کیا تھا اب اس کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار صحافیوں سے گفتگوکرنے ہوئے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو مصر کے پاکستان میں متعین سفیر Mr. Sherif Shaheen ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاوس میں تشریف لائے تھے ۔ ملاقات کے دوران مصری سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری میں حصہ لینے کی تجویز پیش کی جو کہ خوش آیندہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز سے اقتصادی ترقی کی راہیں کھلیں گی جس سے براستہ پاکستان کم قیمت اور محفوظ ترین تجارتی راستوں کے ذریعے چین سے افریقہ تک تجارت ممکن ہو سکے گی ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے مصر کی اس تجویز کو سراہتے ہو ئے کہا کہ حقیقی طور پرخطے میں سی پیک کے منصوبے سے معاشی انقلاب کی نئی جہتیں کھلیں گی ۔ چین سے مصر کی تجارتی منڈیوں سمیت یورپ اور افریقہ تک تجارتی رسائی حاصل کرنے کے لیے مہینوں بحیرہ عرب ، بحیرہ احمر اور بحیرہ روم میں سفر کرنا پڑتا تھا ، اب سی پیک کے ذریعے یہ راستہ دنوں میں اپنا سفر مکمل کر لے گا۔ سردار ایاز صادق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر سمیت مشرق وسطی کے دیگر ممالک کو بھی خوشحالی کی اس راہداری سے مستفید ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے اس منصوبے میں شاملہونے سے اقتصادی خوشحالی ، مشترکہ ترقی اور علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی نئی قندیلیں روشن ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…