ایک مرتبہ چودہ سو صحابہ کرامؓ حضور اکرمﷺ کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مدینہ منورہ سے چلے‘ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر نبی علیہ السلام نے کفار سے صلح کیلئے بات طے کر دی اور صحابہ سے فرما دیا کہ احرام کھول دو‘ ہدی کے جانوروں کو ذبح کر دو اور تم واپس چلو صحابہ کرامؓ حیران ہوئے کہ ہم تو دل میں عمرہ کرنے کی تمنا لے کر چلے تھے‘ ہم کیسے واپس جائیں‘
صحابہ کرامؓ کو حیرانی اس بات پرہوئی کہ ایک طرف تو ظاہراً اللہ کے محبوبﷺ اتنا دب کر صلح کر رہے ہیں اور دوسری طرف آیتیں اتر رہی ہیں کہ یہ فتح مبین ہے‘ اس وقت عمر ابن خطابؓ نبی اکرمﷺ کے پاس پہنچے اور عرض کیا‘ اے اللہ کے محبوبﷺ ہم نے ان کفار کی سب شرائط مان لیں اور اپنی سب شرائط چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا عمر! اللہ رب العزت نے ہمیں فتح مبین عطا فرما دی ہے‘ حضرت عمر ابن خطابؓ خاموشی سے واپس چلے آئے واپس آ کر حضرت ابوبکرصدیقؓ سے کہا ابوبکر! کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم نے ان کی سب شرائط مان لیں حالانکہ اللہ نے اسلام کو عزت دی ہے مگر ہم تو دب کر صلح کر رہے ہیں۔ ابوبکرصدیقؓ نے بھی وہی الفاظ ادا کئے فرمایا عمر! تمہاری آنکھ دیکھ رہی ہے کہ ہم نے دب کر صلح کی ہے مگر میرے مالک کا فرمان ہے کہ یہ فتح مبین ہے سبحان اللہ! صحابہ کرامؓ میں سے ابوبکرصدیقؓ کی ذات ہی ایسی تھی جس نے اس کو اس وقت فتح مبین سمجھ لیا تھا‘ جب سب صحابہ کرامؓ یہ بات تھوڑی دیر کیلئے سمجھ نہ سکے۔ جب نبی اکرمﷺ نے جانور ذبح کیا اور اپنا احرام مبارک اتارا تو باقی صحابہؓ کو بھی شرح صدر ہو گیا‘ مگر سیدنا صدیق اکبرؓ کو شرح صدر محبوبﷺ کے قول مبارک سے ہی ہو گیا‘ اس سے ثابت ہوا کہ ان کو نسبت اتحادی نصیب تھی۔



















































