ایک مرتبہ حضرت خواجہ فضل علی قریشی کے کھیت سے گندم نکالی گئی‘ وہی گندم پکتی تھی اور خانقاہ کے لوگ کھاتے تھے‘ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاں بھی ایسا ہی سلسلہ بنا دیا ہے ہماری اپنی زمین کی گندم نکلتی ہے اور سارا سال علماء اور طلباء وہی گندم کھاتے ہیں۔ انہوں نے وہ گندم لا کر مسجد کے صحن میں ڈھیر کر دی اس وقت مٹی کے بھڑولے بنا کر ان میں گندم کو محفوظ کیا جاتا تھا‘
مریدین نے وہ گندم مسجد کے صحن میں سے ا ٹھا کر بھڑولے کے اندر ڈالنی شروع کر دی‘ وہ گندم اٹھاتے رہے مگر ڈھیر ختم ہونے کو ہی نظر نہیں آ رہا تھا وہ جتنی گندم لے جاتے تھے اتنی پیچھے پڑی ہوتی تھی وہ دیہاتی لوگ تھے ان بیچاروں کی گردنیں بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک گئیں۔
حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقی رحمتہ اللہ علیہ بڑے عقلمند تھے وہ بھی اصل حقیقت سمجھ گئے چنانچہ وہ حضرت قریشی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کرنے لگے حضرت جو برکت یہاں ظاہر ہو رہی ہے وہ اندر جا کر ظاہر نہیں ہو سکتی۔ حضرت نے فرمایا بھئی مسئلہ کیا ہے؟عرض کیا حضرت گندم اٹھا اٹھا کر گردنیں تھک گئی ہیں اب تو صرف ٹوٹنی رہ گئی ہیں لہٰذا مہربانی فرما کر توجہ فرما دیں‘ حضرت نے فرمایا‘ چلو اٹھاتے ہیں چنانچہ حضرت قریشیؒ ساتھ آئے اور سب نے گندم اٹھائی اور حضرت نے بھی تھوڑی سے اٹھائی اور ایک ہی مرتبہ وہ ساری گندم اندر چلی گئی۔
قبلہ رو بیٹھنے کی فضیلت
حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی نے کہا کہ میں نے ایک کتاب میں واقعہ پڑھا کہ ایک دوست فرماتے تھے کہ میرے دو طالب علم تھے اور دونوں قرآن پاک یاد کرنے والے تھے‘ ایک کی نشست ایسی تھی کہ اس کا رخ قبلہ کی طرف تھا اور دوسرے کی پیٹھ قبلے کی طرف تھی‘ وہ فرماتے ہیں جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا وہ دوسرے سے ایک سال قبل قرآن پاک کا حافظ بن گیا اسی لئے ہمارے مشائخ بھی اپنے رخ کو قبلے کی طرف رکھنے کا التزام فرمایا کرتے تھے ہر جگہ ممکن نہیں ہوتا لیکن جہاں ممکن ہو انسان کوشش کرے۔



















































