حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور واقعہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ حج پر تشریف لے گئے وہ تھکے ہوئے تھے حضرت نیعشاء کی نماز کے صرف فرض پڑھے اور سو گئے خواب میں نبی علیہ السلام کا دیدار نصیب ہوا۔ آپؐ نے فرمایا مہرعلی! تو نے فرض پڑھ لئے اور سنتیں نہ پڑھیں جب آپ ہماری سنتیں چھوڑدیں گے اور نہ پڑھیں گے تو باقی لوگوں کا کیا حال ہو گا؟
بیدار ہوئے تو حضرت پرگریہ طاری ہو گیا اس کے بعد عشاء کی نماز مکمل کی اور پھر بعد میں مشہور نعت لکھی جو انہوں نے اپنی زبان یں لکھی ہے۔کھا کھا کے تھک گئے مگر پھر بھی کھاناحضرت خواجہ سراج الدین رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مولانا صاحب تشریف لائے جو ایک وقت میں صرف ایک بکرا اور اس کے ساتھ روٹیوں کے دو تین بنڈل کھایا کرتے تھے‘ جب وہ آئے تو انہوں نے حضرت سے کہ دیا کہ حضرت! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میرا کھانے کا معمول یہ ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں کہیں بھوکاہی نہ رہوں لیکن اتنا کھانے کے باوجود ایک پکے سالک تھے‘ وہ حافظ قرآن تھے اور ایک بکرا روٹیوں کے دو تین بنڈل کھا کر نوافل کی نیت باندھ لیتے اور پوری رات نوافل میں گزار دیتے تھے‘ وہ واقعی باخدا بندے تھے لیکن ان کی زیادہ کھانے کی عادت بنی ہوئی تھی۔جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو سب مہمانوں کیلئے ایک دیگ سے کم کھانا تھا‘ ان مولانا صاحب کو پریشانی لاحق ہوئی کہ اب میرا کیا بنے گا‘ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے لنگر والے خادم کو بلا کر فرمایا کہ ان کو بھی دو چپاتیاں اور شوربے میں ایک بوٹی ڈال کر دینا‘ مولانا صاحب حیران پریشان تھے کہ میرا کیا بنے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ وہ مولانا صاحب دسترخوان پر بیٹھ کر روٹی اور سالن کھاتے رہے حتیٰ کہ ان کا پیٹ بھر گیا لیکن ان سے وہ روٹیاں اور سالن ختم نہ ہوا یہ حضرت کی کرامت تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس کھانے میں اتنی برکت دی کہ وہ مولانا صاحب کھا کھا کر تھک گئے ان کا پیٹ بھر گیا لیکن کھانا ختم نہ ہوا۔



















































