سیدنا عمر بن خطابؓ منبر پر کھڑے ہو کر فرماتے ہیں کہ اور ہوا اس پیغام کو سینکڑوں میل دور تک پہنچا رہی ہے۔ حضرت عمرؓ نے دریائے نیل کو ایک رقعہ لکھا تو اس کے پانی نے چلنا شروع کر دیا‘ آج بھی دریائے نیل چل رہا ہے اور حضرت عمر بن خطابؓ کی عظمتوں کی گواہی دے رہا ہے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آتا ہے آپؓ پاؤں کی ٹھوکر مار کر زمین کو فرماتے ہیں کہ اے زمین! تو کیوں ہلتی ہے کیا عمر نے تیرے اوپر عدل نہیں کیا؟ اسی وقت زمین کا زلزلہ رک جاتا ہے۔
مدینہ منورہ کے قریب پہاڑ سے ایک آگ نکلتی ہے جو مدینہ منورہ کی طرف بڑھتی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ تمیم داریؓ کو بھیجتے ہیں کہ جا کر اسے بجھائیے انہوں نے دو رکعت نفل پڑھی اور پھر اپنے کپڑے کو ایسے بنایا جیسے کسی جانور کو مارنے کا چابک ہوتا ہے اس کے ساتھ آگ کو مارتے رہے آگ پیچھے ہٹتی رہتی حتیٰ کہ جس غار سے نکلی تھی اسی غار میں واپس ہو گئی۔
درندوں نے جنگل خالی کر دیا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جب افریقہ کے جنگلوں میں پہنچے تو بربرقوم کہنے لگی کہ یہاں بہت خطرناک دردندے ہیں وہ رات کے اندھیرے میں تمہاری تکہ بوٹی کر دیں گے‘ ایک صحابیؓ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا اے جنگل کے درندو! آج یہاں نبی علیہ السلام کے غلاموں کا بسیرا ہے اس لئے جنگل خالی کرو‘ یہ اعلان ہونا تھا کہ صحابہ کرامؓ نے دیکھا کہ شیرنی بچوں کو لے کر جا رہی ہے اور ہاتھیوں کے غول جا رہے ہیں اور سارے درندے جنگل کو خالی کر کے جارہے ہیں‘ مقامی لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیسے سیکھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پیارے محبوبؐ نے ہمیں ایسی زندگی کے طریقے سکھائے‘ وہ کہنے لگے کہ پھر آپ ہمیں بھی اپنے جیسا بنا لیجئے‘ چنانچہ وہ افریقن قوم جنگل کے درندوں کی اطاعت کو دیکھ کر بغیر کسی لڑائی کے مسلمان ہو گئی۔



















































