خواجہ نظام الدین اولیاء جب عشقیہ اشعار سنتے تو ان پر جذب کی کیفیت طاری ہو جاتی اس دور میں حکیم ضیاء الدین سنامی رحمتہ اللہ علیہ ایک بزرگ تھے جن کو وقت کے بادشاہ نے محتسب اعلیٰ متعین کیا تھا‘ ان کا کام یہ تھا کہ جہاں خلاف شرع کوئی کام دیکھیں اس پر تنقید کریں اور اس کو روک دیں ان کو قاضی کہا کرتے تھے‘ چنانچہ وہ ہر وقت اسی تاک میں رہتے تھے کہ کوئی ایسی بات جو دین کے خلاف ہو تواس کو کسی طرح ختم کر دیا جائے۔
ایک دفعہ ان کو پتہ چلا کہ جناب خواجہ نظام الدین اولیاء شہر سے باہر ایک جگہ میں محفل لگائے بیٹھے ہیں جب یہ اپنے عملے کو لے کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اشعار پڑھے جا رہے ہیں اور لوگ جذب میں حال بے حال ہیں‘ ان کو کچھ پتہ نہیں بڑے اچھل کود رہے ہیں تھوڑی دیر تو انہوں نے برداشت کیا مگر انہوں نے کہا کہ اس کو روکنا چاہئے کہیں کام اس سے آگے نہ بڑھ جائے‘ چنانچہ انہوں نے ان کے خیموں کی رسیاں کٹوا دیں مگر دیکھا کہ وہ خیمے اسی طرح کھڑے ہیں نیچے نہیں گرے۔ حکیم ضیاء الدین سنامی نے کہا کہ یہ سچے حال میں ہیں جو عشق و محبت کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں لہٰذا خاموشی سے واپس آ گئے تاہم وہ کہتے تھے کہ میں اسے بدعت سمجھتا ہوں۔
سب سے بڑی کرامت‘ کرامت معنوی
ایک شخص حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس نو سال تک رہا ایک دن وہ کہنے لگا حضرت! مجھے اجازت دیں میں کسی اور شیخ کے پاس جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا خیریت تو ہے؟ وہ کہنے لگا حضرت میں نو سال تک آپ کی خدمت میں رہا اور میں نے آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی‘ حضرت نے فرمایا آپ مجھے یہ بتائیں کہ ان نو سالوں میں مجھے کوئی کام خلافت سنت کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ وہ کہنے لگا نہیں فرمانے لگے‘ اس سے بڑی کرامت اور کیا ہو سکتی ہے کہ نو سال میں ایک کام بھی نبی علیہ السلام کی سنت کیخلاف نہیں کیا‘ گویا یہ سب کرامتوں سے بڑی کرامت ہے۔



















































